بہاولپور میں سوال و جواب کی محفل

ایمیل Print
User Rating: / 10
PoorBest 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ لوگ جو قومیت کا نعرہ لگاتے ہیں اس قومیت کے نعرے سے انہوں نے کیا حاصل کیا ہے؟ عبدالناصر نے مصر میں قومیت کا نعرہ لگایا تو کیا اس قومیت کے زور پراس نے فلسطین کو آزاد کروایا یا قدس کوہاتھ سے دے دیا؟ آپ بتائیں؟ ہاتھ سے دے دیا۔ ایران میں ڈاکٹر مصدق نے قومیت کا نعرہ لگاکر شاہ کو ملک سے نکال دیا لیکن کیا دوبارہ سی آئی اے شاہ کو واپس نہیں لے آئی تھی؟ اب یہاں آپ اندازہ لگائیں اسلام کی قوت کا اور قومی قوت کا۔ اس مرتبہ امام خمینی نے اسلامی نعرہ لگا کر شاہ کو ملک سے نکا ل دیا اور ایسا ذلیل و خوار کیا حتیٰ کہ امریکہ بھی اسے پناہ نہ دے سکا اور دوبارہ اسے کوئی واپس نہیںلا سکا۔ پس جو قوت و قدرت اسلام میں ہے نہ تو قومیت میں ہے اور نہ ہی سوشلزم کے نعرے میں ہے اور نہ ہی کسی اور نعرے میں ہے۔
ہم اگر مسلمان ہیں اگر واقعاً آزاد مرد ہیں جس طرح کہ امام حسین علیہ السلام نے شمر(لعین) اور اس کے ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اگر تمہارا معاد پر ایمان نہیں ہے تو
کم از کم دنیا میں آزاد مرد بنو تو ہم پاکستان میں اپنے بھائیوں سے یہ کہتے ہیں کہ ہمارے حکمران یا امریکہ کے ساتھ مربوط ہیں یا روس کے ساتھ۔ تو اگر امریکہ انہیں ہدایت نہ دے تو یہ بیچارہ اپنی طرف سے کچھ کہہ سکتا ہے ؟ ابداً نہیں!
بنا بریں حکمرانوں کا گناہ مسلمان عوام کی گردن پر نہیں ڈالنا چاہئے کہا جاتا ہے کہ ایران جنگ بند نہیں کرتا۔ کیوں نہیں کرتا؟ ہم نے یہ کہا ہے کہ اگر یہ جنگ کو طول نہیں دینا چاہتے تو پھر کیوں ا س نے عراق کی طرف سے اوپیک  میں ووٹ دیا ہے اور اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک کے سربراہان اگر جنگ بندی کے خواہاں ہیں تو پھر اسلامی طریقے سے آئیں اگر واقعاً جب اسرائیل نے عربوںپر حملہ کیا تھا ، اس کو اس وقت سزا دی جاتی۔68ء میں اس نے جو حملہ کیا تھا اس کو سزا دی جاتی تو آج کسی کو جرات نہ ہوتی کہ وہ کسی کمزور ملک پر حملہ کر ے لیکن انہوں نے دیکھ لیا کہ اقوام متحدہ کی چوکیداری میں سب کچھ ہوتا ہے اور کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔
کوئی سوال ہو تو کر سکتے ہیں۔
٭سوال۔ جہاں تک تو ہمارے حکمرانوں کا تعلق ہے تو اسے میں تسلیم کرتا ہوں لیکن ہمارے عوام تو یقینا حکمرانوں کے ساتھ نہیں ہیں مجبوراً ان کے پیچھے چل رہے ہیں لیکن اس جنگ میں عوام کانقصان ہو رہا ہے ایرانی عوام کا اور عراقی عوام کا اور ایرا ن کااسلحہ بھی برباد ہو رہا ہے اور عراق کا بھی۔ اور ساتھ عرب ممالک کا بھی وہ اسلحہ جواس وقت اسرائیل اور سامراج کے خلاف استعمال ہونا چاہئے تھا وہ اسلحہ مسلمان مسلمان کے خلاف استعمال کر رہا ہے جہاں تک ہمارے حکمرانوں کامسئلہ ہے تو وہ جیسا کہ آپ نے فرمایا اور ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ یا تو امریکی بلاک کے ساتھ ہیں یا رشین بلاک کے ساتھ اور امریکہ و روس کا تو مفاد اسی میں ہے کہ اسلامی ممالک کا اسلحہ ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوتا رہے اور مسلمانوں کی قوت آپس میں ٹکراؤ کے ساتھ ختم ہو جائے ایسی صورت میں اس جنگ کو کسی صور ت میں جاری رکھنا کس طرح صحیح ہے؟ مصلحت کے تحت تو حضور اکرم نے صلح حدیبیہ کی جسے اس وقت تمام اصحاب کرام نے تسلیم کیا بلکہ اس کے نتیجے میں فتح حاصل ہوئی تو اگر یہاں بھی مسلمانوں کو بچایا جائے۔۔۔۔۔۔
٭ شہید۔افغانستان میں جو جنگ ہو رہی ہے اسے آپ کفر و اسلام کی جنگ سمجھتے ہیں یا نہیں؟
٭سوال کنندہ۔ جی ہاں تسلیم کرتے ہیں۔
٭شہید۔ وہ بھی تو دو مسلمانوں کے درمیان ہے۔
سوال کنندہ٭ میں عرض کروں گا کہ ان دونوں کو مسلمان نہیں کہا جا سکتا۔ اس لئے کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ روس کی طرف سے جو حملہ آور ہیں وہ عام طور پر سوشلسٹ ہیں اور جو سوشلٹ ہیں وہ چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
٭شہید۔ایک منٹ۔ عرض کروں کہ وہاں ابھی تک روس نہیں آیا ہے اور دو مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں اگر آپ کی نظروں میں ایک طرف مسلمان ہیں اور دوسری طرف کفر ہے تو عیناً یہی مسئلہ وہاں بھی ہے، عراق میں صدر صدام بعث پارٹی سے تعلق رکھتا ہے اور بعث پارٹی میثل افلق کی پارٹی ہے جس کی ماں یہودی ہے اور باپ عیسائی ہے اور جو صیہونزم کے لئے کام کر رہا ہے یہاں تک کہ میں خود عراق میں رہ چکا ہوں انہوں نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا تھا کہ یہ جو کتابوں میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی جاتی ہے اس کو کتابوں سے کاٹ دینا چاہئے اور جس چیز کے ساتھ ہمیں مقابلہ کرنا ہے وہ اللہ کا نام ہے۔ پھر یہ سب دنیا کو معلوم ہے کہ صدام نے امریکہ کے اشارے پر ایران پرحملہ کیا اب یہاں پر بات یہ ہے کہ اگر کارمل ہمارے مجاہدین کے خلاف فوج بھیج دے تو ہم اسے اسلام و کفر کی جنگ قرار دیتے ہیں تو اگر روس اپنی فوج صدام کے ذریعے آگے بھیج دے تو وہ بھی اسلام و کفر کی جنگ ہے اور دوسری بات جو آپ نے کی وہ یہ تھی کہ مسلمانوں کا اسلحہ اور افرادی قوت ضائع ہو رہی ہے تو سوال وہاں بھی پیدا ہوتا ہے ۔ تیسرا سوال جو آپ نے کیا تو اس سلسلے میںعرض یہ ہے کہ آج قدس کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ صدام ہے۔ یہاں کے ا خبارات نے لکھا تھا کہ امریکہ کی کانگریس میں ایرانی فوج کا نقشہ اٹھا کر دکھایا تھا اور اس نقشے میں یہ تھا کہ یہ ایران ہے یہ عراق ہے اور یہ آگے قدس ہے اور انہوں نے نیچے یہ لکھا تھا کہ قدس کا راستہ کربلا سے گزرتا ہے۔ یعنی اگر ہم مسلمانوں کو قدس کو آزاد کرانا ہے تو پہلے ہمیں کربلا کو آزاد کرانا چاہئے۔ اب قدس کے راستے میں عراق بہت بڑی رکاوٹ ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ قدس کو آزاد کروائیں تو پہلے ہمیں صدام کو راستے سے ہٹانا ہو گا اگر صدام کو ہٹا دیا تو دوسرے مرحلے میں قدس کو آزاد کروائیں گے۔ آپ الحمداللہ سیاسی آدمی ہیں اور آپ کے مطالعات زیادہ ہیں آپ جانتے ہیں کہ جب سادات نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور پہلی بار وہ یروشلم گیا تو آپ کو یاد ہو گا کہ عرب لیگ جن میں اس وقت پانچ ملک تھے جن میں شام، الجزائر، جنوبی یمن، لیبیا اورعراق تھے اور سب سے پہلے جس نے سادات کے خلاف ایکشن لیا وہ صدام تھا۔ ان سب ممالک نے فوراً میٹنگ بلائی جس میں انہوں نے کہا کہ چونکہ سادات نے مسلمانوں کے ساتھ غداری کی ہے لہٰذا اسے عرب لیگ سے بھی نکالا جائے۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ اب اس سیاست میں کون سی تبدیلی آ گئی ہے کہ اسے واپس عرب لیگ میں لے آئے ہیں۔
٭سوال۔افغانستان میں رشیا نے اپنی فوجیں بھیجی ہیں وہ فوجیں کسی مسلمان ملک نے نہیں بھیجیں وہاں ایک طرف رشیا کا اسلحہ ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کا اسلحہ ہے۔ اصل میںرشیا نے خود وہا ںقبضہ کر لیا ہے۔۔۔۔۔۔
٭شہید۔وجہ یہ ہے کہ مسلمان اور ہیں اور سربراہان اور ہیں۔ سربراہان غیروں کے اشارے پر کام کر رہے ہیں اور اب یہاں میرے وہ بھائی بیٹھے ہیں کہ جنہیں سیاست سے واسطہ ہے میں ان سے پوچھتا ہوں کہ حسین اردنی اور اس کارمل میں کوئی فرق ہے ؟ (حاضرین۔ نہیں کوئی فرق نہیں) حسنی مبارک اور کارمل میں کوئی فرق ہے؟ (حاضرین۔ نہیں) نمیری جو ابھی بغداد گیا ہے اس میں کارمل میں کوئی فرق نہیں؟ (حاضرین ۔ نہیں ہے) اگر ادھر کارمل نے یہ کیا ہے تو ادھر امریکہ نے حسنی مبارک سے کہہ کر مصری فوج کو عراق بھجوایا ہے نمیری سے کہہ کر سوڈان کی فوج کو عراق بھجوایا ہے اب وہاںانقلاب آیا ہے تو انہوں نے ایران سے کہا ہے کہ ایران میں ان کے جتنے بھی جنگی قیدی ہیں انہیں آزاد کر دے اور عراق سے بھی انہوں نے اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیا ہے۔ اب فوجی مصر سے آئے ہیں اور اسلحہ کس کا ہے؟اسلحہ انہیں سعودیہ کی طرف سے مل رہا ہے یہ اواکس طیارے (خصوصاً ان لوگوں کا کہ جن کا سیاست کا مطالعہ ہے میں ان سے پوچھتا ہوں) انہیں کس لئے دیئے گئے ہیں ہماری معلومات کے مطابق اواکس اس شرط پر سعودیہ کو دیئے گئے ہیں کہ وہ اسرائیل کی جاسوسی نہیں کریں گے اب جب اواکس طیاروں کے ہوتے ہوئے اسرائیل نے عراق کا ایٹمی ری ایکٹر تباہ کر دیا ہے تو سعودیہ نے عراق کو کیوں اس حملے کی اطلاع نہیں دی یہ اواکس طیارے صرف ایران کے لئے دیئے گئے ہیں او رسعودیہ کی سرزمین سے اس کی جاسوسی کر رہے ہیں۔ چند دن پہلے سب نے کہہ دیا کہ ان کے مصنوعی سیارے یہ نہیں دیکھ سکے کہ شط العرب کے بعد وہ طیارے کہاں جا رہے ہیں۔ پس آقا صاحب اگر ہم حقائق سے انکار نہ کریں تو جس طرح آج افغانستان میں ہو رہا ہے بالکل اسی طرح عراق میں بھی ہو رہا ہے اب اگر ہم اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دیں کہ نہیںوہاں ایسا نہیں ہو رہا تو یہ اور بات ہے۔
٭سوال۔مولانا صاحب ایک اور بات ہے وہ یہ کہ ابھی جیسا کہ آپ نے اشارہ فرمایا کہ ایران میں انقلاب آیا تو اس کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد امریکہ کے اشارے پر کہہ لیں یا خود بعث پارٹی کی اپنی داخلی پالیسی کے تحت کہہ لیں بہرحال عراق نے ایران پر حملہ کر دیا تو اب ایرا ن نے اس کا تسلی بخش جواب دے دیا ہے اور ایران کے جو علاقے عراق کے قبضے میں تھے وہ اس نے واپس لے لئے ہیں۔ اب انقلاب کو دیکھنا ہے کہ اس کے کیا ذرائع ہیں اور کیا اتنی بڑی جنگ کو جاری رکھنا اس کے لئے ممکن ہے؟
٭شہید۔اس انقلاب کو دوسرے مسلمانوں کے لئے کام کرنا ہے۔ اگر یہ انقلاب اسلامی ہے تو عراق میں جو بعث پارٹی مسلط ہے اور شیعوں پر مظالم ڈھا رہی ہے علماء کو شہید کر رہی ہے شیخ بدری جو اہل سنت والجماعت کے ایک بہت بڑے عالم تھے ان کو شہید کر دیا ہے شہید باقر الصدر جو ایک بہت بڑے مجتہد تھے انہیں اور ان کی بہن کو شہید کر دیا گیا اور ان کے علاوہ ہزاروں نوجوانوں کو اس حکومت میں شہید کر دیا ہے۔ اس انقلاب کی حمایت خود عراق کے اندر بھی کی جاتی ہے چند دن پہلے ایرانی وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ الحمد اللہ ہمارے اوپر جتنا بھی غیر ملکی قرض تھا وہ ہم نے اتار دیا ہے اب ہمارے اوپر کسی کا قرض نہیں ہے البتہ ہمارا قرضہ فرانس نے دینا ہے جو شاہ کے زمانے میں اس کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا اسی طرح انگلستان نے بھی ہمارے پیسے دبا رکھے ہیں امریکہ نے بھی اسی طرح ،نہ توو ہ ہمیں اسلحہ دے رہا ہے اور نہ ہی ہمارے پیسے واپس دے رہا ہے اب ایران پر کسی کا قرضہ نہیں ہے اس بارے میں مزید معلومات آپ کومولانا دے سکتے ہیں۔ جو کافی عرصہ ایران رہے ہیں اور اب بھی تازہ ایران سے ہو کر آئے ہیں ایران کے ہر شہر میں غریبوں کے لئے بنیاد مستضفین کے نام سے ایک فاؤنڈیشن ہے جو غریبوں کے لئے گھر بنا رہی ہے اور غریبوں کے لئے کاروبار کا بندوبست کر رہی ہے یہاں تک کہ جو جنگ میں شہید ہو جاتے ہیں ان کی پنشن جاری کرتے ہیںان کے بچوں کو گھر دیتے ہیں اور ان کے لئے تمام بندوبست کرتے ہیں۔
بنا بریں ان کے ملک میں نہ تو کوئی اسلحہ کی کمی ہے اور نہ ہی غربت ہے الحمد اللہ وہاں انہوں نے غریبوں کے لئے بھی بہت کام کیا ہے۔ ہمارے ملک میں جنگ بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی یہاں چینی دس روپے کلو ہے وہاں پر اس سے بھی سستی ہے اب آپ بتائیں۔۔۔۔۔۔
ہم مسلمانوں کی یہ بدبختی ہے کہ ہماری اپنی کوئی نیوز ایجنسی نہیں ہے ہم اپنے پاکستان کی خبروں کو بی بی سی اور رائٹر سے لیتے ہیںایران کی خبروں کو بھی باہرسے لیتے ہیں آپ اگر ایران چلے جائیں تو آپ دیکھ لیں گے کہ قسم بخدا ان کے پاس خدا کی دی گئی نعمتوں کی فراوانی ہے اور کسی چیز کی کمی نہیں ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ اگر جنگ نہ ہوتی تو ایران کہاںسے کہاں پہنچ جاتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب لاکھوں افراد مارے گئے ہیں عورتیںبیوہ ہو گئی ہیں بچیاں یتیم ہو گئی ہیں اور ایران و عراق دونوں کے علاقے خراب ہوئے ہیں اب اگر وہ ظالم کو چھوڑ دیتے ہیں تو کل وہ اپنے آپ کو فاتح سمجھ کر کویت کو بھی غارت کرے گا شام پر بھی حملہ کرے گا اور سعودیہ کو بھی نہیں چھوڑے گا یہ صدام کی طبیعت جارحانہ ہے۔
٭سوال۔میں یہاں عرض کروں گا کہ ماشاء اللہ پاکستان کے عوام بھی مسلمان ہیں اور ہم لوگوں اور ایرانیوں کے درمیان مضبوط رشتہ دین ہے اور اسلامی رشتہ ہے اور اسی وجہ سے ان کے تعلقات پہلے بھی اچھے تھے اور اب بھی اچھے ہیں اور یہ کہ اسلامی جمہوریہ کے صدر اگر جلد پاکستان آئیں تو وہ اس کا بہتر جواب دیں گے۔
٭ سوال
٭شہید۔اس سلسلے میں میں نے جیسا کہ ابھی بتایا ہے کہ عراق نے ایران پر جنگ مسلط کی ہے اور حقیقتاً صدام طاغوتی طاقتوں کے مفاد کے لئے لڑ رہا ہے۔ اس سلسلے میں اس جنگ کو ہم اسلام اور کفر کی جنگ سمجھتے ہیں جس طرح کہ افغانستان میں جنگ کو ہم اسلام اور کفر کی جنگ سمجھتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ انشاء اللہ ایک دن ایران اسلامی اس جنگ میں کامیاب ہو جائے گا اور صدام و امریکہ و روس جتنی بھی قوت سے اس کے ساتھ تعاون کریں وہ اس کے کام نہیں آئے گا اور اس کے بعد انشاء اللہ دوسر ے مرحلہ میں ہمارے ایرانی مسلمان بھائی قدس کی آزادی کے لئے اسرائیل کے خلاف نکلیں گے۔
٭ سوال
شہید٭ یعنی سنی تنظیموں کے ساتھ آپ تعلقات ختم نہیں کر سکتے ہیں یعنی جتنی تنظیمیں ہیں جو ایک مقصد کے لئے کام کر رہی ہیں ان کو آپس میں اعتماد میں لینا چاہئے۔ ان کو آپس میں مربوط ہونا چاہئے۔ ان کے درمیان بدگمانی ختم ہونی چاہئے۔ اگر ہم آپس میں متحد اور ہم کار ہو گئے تو اس کے نتیجے میں ہم مضبوط ہو جائیں گے۔ ہم فتح مند ہو جائیں گے پھر ہمیں کوئی بھی استعمال نہیں کر سکتا جن تنظیموں کے ساتھ یعنی ہم شیعوں کے علاوہ جس تنظیم کے ساتھ تعاون کریں گے تو جیسے قبلہ صاحب نے فرمایا خدانخواستہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو رابطہ ہو سکتا ہے اگر ہم خدا کے لئے کام کرتے ہیں اگر ہم پر نفس غالب نہیں ہے تو میرا عقیدہ یہ ہے کہ نفس کا مسئلہ ہمارے لئے خطرناک ہے اور یہی میں نے عرض کیا کہ اندرونی محاذ جو اپنے نفس کے ساتھ جہاد ہے جس کو ہم جہاد اکبر کہتے ہیں وہ ہم کر لیں تو پھر کامیابی ہمارے ساتھ رہے گی اور آخر میں ایک مرتبہ پھر میں آپ سب بھائیوں کا جوانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ کے حق میں دعا کرتا ہوں کہ خداوند متعال آپ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور ہم آپ سب کو اہل بیت اطہار علیہم السلام کی سیرت پر صحیح معنوں میں عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے اور ہمارے اعمال میں خلوص ڈال دے اور حضرت ولی عصر  کے ساتھ محشور فرمائے۔
والسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

آپ یہاں ہیں: انٹر ویو و پریس کانفرنس بہاولپور میں سوال و جواب کی محفل