تقدس حرم الٰہی کے بارے میں ریڈیو زاہدان سے انٹرویو

ایمیل Print
User Rating: / 1
PoorBest 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
س: آقا صاحب حرم الٰہی کے تقدس اور سلامتی کی عالمی کانفرنس کی کارکردگی اور نتیجے پر مختصراً روشنی ڈالیں؟
ج: بسم اللہ الرحمن الرحیم درود رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی و سلام بر رزمندگان اسلام۔ آپ کو معلوم ہے کہ گزشتہ سال حج میں ٦ ذی الحجہ ١٤٠٧ ہجری کو جب مکہ معظمہ میں برائت از مشرکین کے نام سے جلوس نکالا گیا اور اس جلوس میں نہ صرف ایران اسلامی بلکہ دوسرے اسلامی ممالک کے حجاج گرامی بھی شامل تھے۔ الموت لامریکہ، الموت لروسیہ، الموت اسرائیل، اتحدو اتحدو ایہا المسلمون، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر جیسے نعرے لگا رہے تھے تو سعودی پولیس نے ان پر حملہ کیا۔ ان نہتے حاجیوں کے تمام راستے بند کر دیئے اور اس حملہ کے نتیجے میں ٤٠٠ سے زیادہ حجاج گرامی شہید اور سینکڑوں زخمی ہو گئے اور مکہ کی سڑکیں حاجیوں کے بے گناہ خون سے رنگین ہو گئیں۔ حرم مقدس کی حرمت کی ہتک ہو گئی اور یہ ہتک حرمت حرم مقدس ایک ایسا عظیم گناہ اور جرم ہے کہ ہم سمجھتے ہیں خداوند متعال اس جرم کی وجہ سے آل سعود کو معاف نہیں کرے گا۔ مسلمانوں کو آل سعود کے اس جرم کی کم از کم سزا یہ دینی چاہئے کہ آل سعود کو حرمین شریفین سے بے دخل کیا جائے اور حرمین شریفین کے انتظامات کرنے کے لئے صلحائ، نیک، دیانتدار افراد پر مشتمل کمیٹی بنانی چاہئے جس میں تمام اسلامی ممالک کے نمائندے موجود ہوں اور وہ حرمین شریفین کا ادارہ کریں تو اس سلسلے میں ایک کانفرنس تہران میں منعقد ہوئی جس میں ٤٠ سے زیادہ ممالک کے نمائندے شامل تھے۔ بڑے بڑے علماء و دانشور تھے۔ اسلامی شخصیات تھیں اور یہ کانفرنس مسلسل چار دن جاری رہی اور آخر میں اس میں کچھ قراردادیں پاس کی گئیں۔ طبعی بات ہے کہ عالم اسلام کی شخصیات اور بڑے بڑے علماء جب ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو خود ان کا جمع ہونا باعث خیر و برکت ہے اور ہمیں تسلی ہے کہ جب ملت اسلامیہ کے صحیح نمائندے اپنے اپنے ملکوں میں واپس جائیں گے تو آل سعود نے جو مظالم کئے ہیں لوگوں کو بتائیں گے حق کا پیغام لے جائیں گے اور قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنے اپنے علاقوں میں جدوجہد شروع کریں گے۔
س: حرم الٰہی کے تقدس اور سلامتی کی عالمی کانفرنس میں آل سعود کی طرف سے مسلمانوں کو درپیش خطرے کا سوال ابھرتا ہے۔ آپ اس سلسلے میں ہمارے سامعین کو کچھ بتا سکیں گے؟
ج: میں سمجھتا ہوں کہ اس کانفرنس کے انعقاد کے بعد صرف خطرے کا سوال نہیں ہے بلکہ آل سعود جب سے اقتدار میں آئے ہیں یعنی جب سے ان کی حکومت بنی ہے اس وقت سے یہ مسلمانوں کے لئے ایک خطرہ ہیں اور عثمانیہ سلطنت جو مسلمانوں کے لئے ایک مرکز تھی اس مرکز کو توڑنے میں بھی سب سے زیادہ کردار آل سعود کے حکمرانوں نے ادا کیا ہے اور اب بھی مسلمانوں میں اختلاف اور نفاق پھیلانا اور امریکہ کے ناپاک منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آل سعود پاکستان اور دوسرے ممالک میں ان کے لئے کام کر رہے ہیں۔
س: امام امت نے اپنے بیانات میں مکہ کے خونی المیہ کے بارے میں اپنے ایک ردعمل میں فرمایا ہے کہ مکہ کا المیہ مسلمانوں کے لئے رسوائی ہے جسے مسلمانان عالم کو ہرگز برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ اس سلسلے میں آپ کے خیال میں مسلمانان عالم پر کیا فرض عائد ہوتا ہے؟
ج: میں نے عرض کیا ہے کہ آل سعود نے ایک ایسا جرم کیا ہے کہ ہم ان کی جتنی بھی مذمت کریں کم ہے عالم اسلام کے لئے ضروری ہے کہ اس بات پر سوچے کہ حرم مقدس سارے مسلمانوں کا ہے ایک خاندان کا نہیں ہے اور نہ صرف مسلمانوں کیلئے حرم کا تقدس محترم ہے بلکہ اسلام سے پہلے بھی غیر مسلمان حرم کے تقدس کا خیال کرتے تھے۔ اب آل سعود نے حرم مقدس کی ہتک حرمت کی ہے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کی جواب طلبی کریں اور ان پر مقدمہ چلائیں اور کم ترین سزا (جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا) مسلمانوں کی طرف سے آل سعود کو دینی چاہئے وہ یہ ہے کہ آل سعود کو حرمین شریفین سے نکالا جائے اور حرمین شریفین کو ان سے آزاد کیا جائے۔
س: برائت از مشرکین کا اعلان ایک ایسا فرض ہے جسے قرآن کریم نے پیش کیا ہے اور رسول کریم نے اسے عملی جامہ پہنایا۔ آج مسلمانان عالم خصوصاً حجاج کرام اگر اس قرآنی حکم کو اپنے حالات اور زمانوں کے تقاضوں کے مطابق ادا کرنا چاہیں تو کیسے ادا کرنا چاہئے؟
ج: جیسا کہ آپ نے خود بھی فرمایا۔ خداوند متعال نے سورہ برائت میں فرمایا ہے
اس آیہ شریفہ میں برائت از مشرکین واضح ہے جو بھی قرآن کو مانتا ہے تو اسے برائت از مشرکین (جو ایک اسلامی فریضہ ہے) کو حج کے موقع پر اور حج کے علاوہ بھی اس کو انجام دینا چاہئے اور اس سے انکار نہیں کر سکتا (کس طرح انجام دینا چاہئے؟) واضح ہے کہ اس وقت دنیا میں برائت کا رائج طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی قوم اور ملت اپنے صدر سے یا اپنے حکمرانوں سے برائت کا اظہار کرنا چاہتی ہے تو وہ قوم سڑکوں پر نکل آتی ہے۔ سڑکوں پر نعرے لگاتے ہیں تو بنابرایں اگر آج ہم مشرکین، مستکبرین و ظالمین سے اور امریکہ، روس اور اسرائیل جو اس وقت سب سے بڑے ظالم ہیں اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اگر آج ہم ان سے برائت کرنا چاہتے ہیں تو دنیا میں رائج طریقہ یہی ہے کہ سڑکوں پر مظاہروں کی شکل میں برائت کی جائے۔ دوسرے جلوسوں اور برائٹ از مشرکین کے جلوس میں واضح فرق ہے دوسرے جلوسوں میں تشدد بھی ہوتا ہے۔ توڑ پھوڑ بھی ہوتی ہے۔ غلط قسم کے نعرے بھی لگتے ہیں لیکن برائت از مشرکین کے عنوان سے مظاہروں اور جلوس میں (اور جس طرح ہم نے خون ان میں مکہ اور مدینہ میں شرکت کی ہے) بالکل امن ہوتا ہے تشدد نہیں ہوتا، ان میں توڑ پھوڑ نہیں ہوتی اس میں لوگ خشوع و خضوع اور سلیقہ و وقار کے ساتھ چلتے ہیں اور ان کے نعرے بھی اتحاد بین المسلمین کے بارے میں ہوتے ہیں۔ مثلاً الحدوا تحدوا یا ایہا المسلمون، اللہ اکبر، لا الہ الا للہ یا برائت از مشرکین کے نعرے مثلاً مردہ باد امریکہ، مردہ باد روسیہ، مردہ باد اسرائیل، بنابرایں برائت از مشرکین کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوئی اور طریقہ ہو تو بتائیں ورنہ دنیا میں رائج طریقہ یہی ہے لہٰذا ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ مدینہ و مکہ میں جس طرح پہلے پرامن مظاہرے ہوتے تھے اور جس میں اتحاد بین المسلمین کے نعرے ہوں، ہونے چاہئیں۔
س: جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ عالمی اشکبار نے غاصبین حرمین شریفین کی اس سازش یعنی جمعہ کے خونی المیہ کے بعد حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور اس سلسلے میں خوب پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے جس میں اصل حقائق کو مسخ کرکے کسی اور شکل میں پیش کیا جا رہا ہے جس وقت آپ پاکستان سے یہاں تشریف لا رہے تھے تو اس وقت پاکستان کی مسلمان قوم میں اس سلسلے میں کیا تاثرات پائے جاتے تھے؟
ج: چونکہ یہ واقعہ اور حادثہ اچانک یا اتفاقیہ طور پر رونما نہیں ہوا بلکہ آل سعود اور امریکہ کی منصوبہ بندی کا نتیجہ پر تھا لہٰذا انہوں نے پہلے ہی سے منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔ ادھر یہ واقعہ ہوا اور ادھر انہوں نے عالمی ذرائع ابلاغ اپنے ٹیلی ویژن اور اخبارات کے ذریعے حقائق کو توڑ مروڑ کر غلط رنگ میں پیش کیا جب لوگوں نے ان حقائق کو تحریف شدہ شکل میں پا لیا تو طبعی بات تھی کہ لوگوں پر ان کا منفی اثر ہوا لیکن جب حجاج گرامی جو کہ واقعے کے عینی شاہد تھے وہ پاکستان واپس آئے اور خود ایران سے جو وفود گئے یا حج کے دوران جو فلمیں بنائی گئی تھیں وہ پہنچ گئیں تو اس کے بعد جب لوگوں کو اصلی حقائق کا پتہ چل گیا تو کافی تبدیلی آ گئی ہے البتہ پھر بھی آل سعود مختلف ذریعوں سے یہ پراپیگنڈا کر رہے ہیں اور اس مسئلے کو ابھی تک انہوں نے نہیں چھوڑا بلکہ لوگوں کے اذہان و افکار کو گمراہ کرنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔
س: آخر میں آپ سے ایک سوال عرض ہے آپ بتا سکیں گے کہ امریکی اور دیگر مغربی ممالک کی افواج خلیج فارس میں کیا کرنے آئی ہیں؟ اس سلسلے میں جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی جمہوری ایران کا بچہ بچہ آمادہ ہے لیکن اسلامی ممالک کے افراد اس سلسلے میں کیا کر سکتے ہیں اور ان پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں؟
ج: میں سمجھتا ہوں کہ امریکی بحری بیڑا اور نیٹو کے بیڑوں کا خلیج فارس میں آنا، ایران عرا ق جنگ، سانحہ مکہ یہ آپس میں مربوط ہیں یعنی جب امریکہ کو یہ تسلی ہو گئی کہ صدام جانے والا ہے شکست صدام کا مقدر ہے اور جمہوری اسلامی ایران انشاء اللہ کامیاب ہونے والا ہے تو اب امریکہ کو مجبور ہو کر خود میدان میں آنا پڑا۔ امریکہ نے چاہا کہ وہ خود جمہوری اسلامی کے مقابلے میں جائے کوئی چارا نہیں تھا تو یہاں پر وہ اس طرح آیا؟ دوسرے راستے تو نہیں تھے لہٰذا ان کو خلیج کے راستے سے آنا تھا اور خلیج میں ان کو اپنے بیڑے اور نیٹو کو لانا تھا۔ انہوں نے خلیج کی امنیت کا مسئلہ بنا دیا کہ چونکہ خلیج میں جہاز رانی محفوظ نہیں ہے ہم چاہتے ہیں کہ خلیج میں امنیت پیدا کریں لہٰذا ہم یہاں آئیں گے۔ لہٰذا کویت کو بھی انہوں نے سبز باغ دکھایا جس کے نتیجے میں امریکہ خلیج میں آ گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ خلیج میں آنے کا جواز تو پیدا ہو گیا لیکن اگر امریکہ چاہے کہ ایران کے خلاف کوئی کام کرے تو اس کے لئے بھی بہانے کی ضرورت تھی۔ اس کے لئے انہوں نے مکہ کا واقعہ کرایا تاکہ اس کے نتیجے میں وہ یہ تبلیغات کر سکے کہ ایرانی حرم مقدس جو سارے مسلمانوں کے لئے مورد احترام ہے اس کا خیال نہیں رکھتے تو مسلمان اس قوم کے ساتھ کیا کر سکتے ہیں اگر امریکہ ایران کے خلاف کچھ کرنا چاہے اور مسلمان ممالک میں مسلمانوں کی طرف سے ردعمل نہ ہو اس کے لئے انہوں نے سانحہ مکہ کروایا تاکہ مسلمان، ایران کی مدد کے لئے نہ آئیں ہم سمجھتے ہیں کہ پہلے اگر کسی کو شک تھا کہ یہ جنگ ایران اور کفر کی نہیں ہے۔ اسلام اور کفر کی نہیں۔ ایران، امریکہ اور عالم اشکبار کا نہیں تو اب انہیں اس کا یقین ہونا چاہئے کہ یہ جنگ سنی شیعہ کی جنگ نہیں ہے۔ عرب عجم کی جنگ نہیں ہے، ایران اور عراق کی ملتوں اور قوموں کی جنگ نہیں ہے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح جنگ احزاب میں تمام کفار ایک جگہ جمع ہو گئے تھے۔ اس وقت بھی جمہوری اسلامی کے مقابلے میں امریکہ، نیٹو اور ان کے دیگر پٹھو مل کر آ گئے ہیں تو امریکہ کا خلیج میں آنے کا مقصد یہ تھا کہ کسی طریقے سے صدام کو بچایا جائے میک فارلن کے واقعہ کے بعد عربوں میں امریکہ کے خلاف جو بے اعتمادی پیدا ہو گئی تھی کہ امریکہ تو ہمیں کچھ اور کہتا ہے اور چپکے سے ان کو اسلحہ دے رہا ہے۔ تو ان کا اعتماد بحال کرنے کے لئے اور صدام کو بچانے کے لئے نیٹو کو خلیج میں لے کر آ گیا ہے۔ یہاں پر مسلمانوں کی خصوصاً پاکستان کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے یہ صرف شیعہ اور کفر کا مسئلہ نہیں ہے صرف سنی اور کفر کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ مسئلہ اسلام اور کفر کا ہے۔ جب اسلام اور کفر کا مسئلہ ہے تو پاکستان کے مسلمانوں کو امریکہ کے خلاف اور ایران اسلامی کی مدد کیلئے میدان میں آنا چاہئے اور امریکہ کو یہ بتانا چاہئے کہ اگر خدانخواستہ انہوں نے ایران کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو پاکستانی مسلمان اس حملے کو پاکستان کے خلاف سمجھ کر اس کا ضرور انتقام لیں گے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں جب سے ہم آئے ہیں۔ خصوصاً ٹیلی ویژن پر کہ ہر روز لاکھوں افراد رضاکارانہ طور پر اظہار آمادگی کرتے ہیں اور میدان جنگ اور محاذ پر جا رہے ہیں اس وقت یہ جنگ عوامی جنگ ہے عوام کے مقابلے میں کوئی نہیں آ سکتا بنا برایں امریکہ کو اپنے بیڑوں، ہوائی جہازوں اور میزائلوں پر غرور نہیں کرنا چاہئے وہ جتنے بھی بیڑے اور میزائل لائے لیکن ملتوں اور عوام کا مقابلہ نہیں کر سکتا جس طرح ویت نام کے عوام سے امریکہ نے شکست کھائی لبنان کے عوام سے امریکہ نے شکست کھائی اور ذلیل و خوار ہو گیا۔ تو ہمیں امید ہے کہ خلیج میں بھی امریکہ ایران کی ملت غیور اور شہید پرور سے شکست کھانے اور یہاں سے خوار و ذلیل ہو کر نکلے گا۔

آپ یہاں ہیں: انٹر ویو و پریس کانفرنس تقدس حرم الٰہی کے بارے میں ریڈیو زاہدان سے انٹرویو