مدینہ منورہ میں شہید حسینی کا انٹرویو

ایمیل Print
User Rating: / 7
PoorBest 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سوال: سمجھ میں نہیں آیا۔
جواب: پاکستان کی مسلمان عوام پر انقلاب اسلامی ایران کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ من جملہ انقلاب نے انہیں متوجہ کیا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور پاکستان میں ضروری ہے کہ ان کے لئے ایک اسلامی حکومت قائم ہو اور انہیں اسلامی نظام کے قیام کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے۔ یہ ازم چاہے شرقی ہوں یا غربی ان سے نجات حاصل کرنی چاہئے۔ یہی وجہ ہے انقلاب کی کامیابی کے بعد اسلامی نظام کے قیام کے کوششوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسرا یہ کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے اتحاد بین المسلمین کو اس قدر اہمیت نہیں دی جاتی تھی لیکن اب انقلاب کی کامیابی کے بعد اس کو بہت زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ سنی اور شیعہ اکٹھے مل کر جلسے منعقد کرتے ہیں۔ انہی اثرات میں سے تیسرا اثر یہ ہوا ہے پاکستان کے لوگ انقلاب اسلامی سے پہلے امریکہ سے متنفر نہیں تھے بلکہ ان کی بہت سی امیدیں امریکہ سے وابستہ تھیں۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد پاکستانی عوام نے اس حقیقت کو پا لیا ہے۔ امریکہ اور روس مسلمانوں کے دشمن ہیں اور ہمیں پاکستانیوں کو امریکہ سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے اور اس پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے۔ امریکہ نے 65ء اور 71ء کی جنگ میں ہماری کوئی مدد نہیں کی۔ پاکستان کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہے تو وہ صرف او رصرف اس کے اپنے منافع کی خاطر ہے۔ لوگوں نے دیکھ لیا ہے کہ وہ پاکستان کا مخلص نہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لوگ اب امریکہ کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ آپ پاکستان جائیں تو دیکھیں گے کہ ہر شہر میں دیواروں پر امریکہ کے خلاف نعرے لکھے ہوئے ہیں۔ یہاں آنے سے پہلے میں نے شمالی علاقہ جات کا دورہ کیا۔ ان آسمان سے باتیں کرتے ہوئے پہاڑوں کے پیچھے گیا جو دنیا کے بلند ترین پہاڑ شمار ہوتے ہیں۔ اس علاقے میں جہاں بھی ہم گئے لوگوں نے مردہ باد امریکہ مردہ باد روس اور مردہ باد اسرائیل کے نعروں کے ساتھ ہمارا استقبال کیا۔ یہاں تک کہ ایک جگہ جب جلسہ ختم ہوا اور وہاں سے ہم ایک اور جگہ جا رہے تھے تو راستے میں ہم نے دو لڑکوں کو دیکھا۔ ان لڑکوں نے جب میری جیپ کو دیکھا تو فوراً یہ نعرہ لگایا۔ ''سب مسلمان بھائی بھائی، امریکہ کی شامت آئی۔ پس پاکستانی عوام پر انقلاب اسلامی کا ایک اہم اثر یہی ہے کہ انہوں نے اپنے اصلی دشمن کفر و استعمار امریکہ اور روس کو پہچان لیا ہے۔ جمہوری اسلامی ایران کے صدر جناب حجت الاسلام و المسلمین سید علی خامنہ ای کے دورہ پاکستان کے بعد وہاں امریکہ کے خلاف بہت اچھی فضا بنی ہے۔ تمام شہروں میں مختلف مناسبتوں سے امریکہ کے خلاف مظاہرے ہوئے حالانکہ اس وقت امریکہ نے ایران کے خلاف ڈائریکٹ کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔
انقلاب اسلامی کے اثرات میں ایک اثر جو پاکستان کے جوانوں پر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اب ان میں دین کی طرف رغبت بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس سے پہلے مساجد اور امامبارگاہوں کے اجتماعات میں جوانوں کی شرکت بہت کم ہوتی تھی لیکن اب جائیں تو دیکھیں گے کہ زیادہ تر جوان مذہبی اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں اور ان کے دینی اجتماعات اور مذہبی دروس مساجد اور امامبارگاہوں میں تشکیل پاتے ہیں۔ انقلاب کے بعد جہاں عام لوگوں میں دین کی طرف رجحان بڑھا ہے وہاں خصوصاً جوان دین کی طرف بہت زیادہ مائل ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی انقلاب اسلامی کے بہت سے مثبت اثرات ہمارے معاشرے پر مرتب ہوئے ہیں جن سب کو بیان کرنا مشکل ہے۔
جنگ کے سلسلے میں پاکستانی عوام کی اکثریت اسلامی جمہوری ایران کی حمایت کرتی ہے البتہ بہت کم ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کبھی کبھی اخباروں میں مقالات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جنگ مسلمانوں کے فائدے میں نہیں اور اسے جلد از جلد ختم ہونا چاہئے لیکن ایسے افراد بہت کم ہیں۔ مسلمانوں اور امریکہ کے درمیان جنگ ہے۔ اسلام اور روس و فرانس کے درمیان جنگ ہے۔ یہی وجہ ہے سب مجاہدین اسلام کی فتح کے لئے دعا کرتے ہیں کہ خدایا جلد از جلد مجاہدین اسلام کو فتح و نصرت عطا فرما تاکہ قدس کی آزادی کے لئے راہ صاف ہو جائے اور تمام مسلمین مل کر قدس کو آزاد کرانے کے لئے آگے بڑھیں۔
نوٹ: عربی انٹرویو کا ترجمہ کیا گیا ہے۔

آپ یہاں ہیں: انٹر ویو و پریس کانفرنس مدینہ منورہ میں شہید حسینی کا انٹرویو