عشرہ فجر کے موقع پر ریڈیو زاہد ان کو انٹرویو

ایمیل Print
User Rating: / 6
PoorBest 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
س: آغا صاحب عالمی کفر کے عالم اسلام سے مقابلے کے پیش نظر جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ عالم اسلام کو عالم کفر نے گھیر رکھا ہے اور اس کے لئے لشکر کشی اختیار کر لی ہے تو اس سلسلے میں عالمی انقلاب کے مستقبل کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
ج: بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ ایک واقعیت ہے کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد مسلمانوں میں بیداری اور اسلام کی طرف ایک لہر چل پڑی ہے آج جس قدر دشمنان اسلام، اسلام کے خلاف تبلیغات اور پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔ اتنی مسلمانوں میں اسلام کی طرف توجہ بڑھ رہی ہے ہم خود دیکھ رہے ہیں کہ ترکیہ میں جہاں اسلامی شعائر کو اتاترک کے بعد بالکل ممنوع قرار دیدیا گیا تھا وہاں پر آج اسلامی شعائر کی بات ہو رہی ہے اور وہاں کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والی لڑکیاں، یونیورسٹیوں میں حجاب کے ساتھ آنے کا مطالبہ کر رہی ہے اور یہی حال ملائیشیا انڈونیشیا تیونس میں ہے او روہاں جو ان اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے سولیوں پر چڑھ رہے ہیں۔ مراکش میں یہی مسئلہ ہے مصر میں تو اس وقت ہزاروں جوان اس لئے جیلوں میں قید ہیں کہ وہ وہاں پر اسلامی نظام چاہتے ہیں کویت میں یہی مسئلہ ہے کہ وہاں کویت کے جوان اسلامی نظام چاہتے ہیں اس لئے وہ جیلوں میں گئے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ ٹھیک ہے جب سے اسلامی انقلاب کامیاب ہوا ہے۔ اس وقت سے دشمنان اسلام خصوصاً امیکہ نے اسلام کے خلاف پراپیگنڈا اور سازش میں شدت اختیار کر لی ہے لیکن دوسری طرف سے اسلام کے لئے بھی جوانوں میں رجحان پیدا ہو گیا ہے تو ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہم یہ اپنے لئے نیک فال سمجھتے ہیں اور انشاء اللہ اسی طرح پاکستان میں بھی ہم جوانوں میں اسلام کی طرف رجحان دیکھ رہے ہیں۔ کشمیر میں ہندوستان میں اور ہمیں امید ہے کہ انشاء اللہ جس طریقے سے ایران سے استعمار کا جنازہ نکل گیا ہے۔ اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک چاہے پاکستان ہو مصر ہو، مراکش ہو، تیونس ہو ان ممالک سے بھی انشاء اللہ استعمار کے جنازے کو باہر پھینک دیا جائے گا۔
س: اسلامی انقلاب کے آغاز سے امام خمینی نے اسلامی انقلاب کے برآمد کرنے کا مسئلہ پیش کیا۔ دشمنان انقلاب اسلامی نے اس لفظ کو غلط مفہوم میں پیش کرکے اسے توڑ مروڑ کر ایک خطرناک صورت میں پیش کیا۔ آپ کے خیال میں انقلاب کی برآمد سے کیا مطلب ہے؟ اور کیا اب تک انقلاب کی برآمد وجود میں آئی ہے اور اگر کوئی ہے تو کس صورت میں؟
ج: یہ ایک حقیقت ہے کہ دشمنان اسلام اس وقت اسلامی انقلاب سے ڈر گئے ہیں اور وہ اس اسلامی انقلاب کو بدنام کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں۔ ان حربوں میں سے ایک حربہ یہ ہے کہ اگر حضرت امام خمینی اور دوسرے مسؤلین جمہوری اسلامی نے یہ لفظ استعمال کیا ہے کہ ہمارا یہ انقلاب ایران کی حدود تک محدود نہیں ہو گا بلکہ ہم اس کو باہر بھی صادر کریں گے تو اس کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ایسا زور و طاقت کے ذریعے ہوتا بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے اس انقلاب کے کچھ اصول ہیں اور ہمارے اس انقلاب میں کچھ تجربات ہیں اور ہمارے اصول اور تجربات کو اپنا کر دوسرے اسلامی ممالک خود اپنے اپنے علاقوں میں اسلامی انقلاب کو برپا کر سکیں اور استعار و سامراج کے مقابلے میں اٹھ کر ان سے آزادی حاصل کریں اور وہاں پر اسلامی نظام نافذ کریں۔
س: پاکستان کے قیام میں مسلمانوں کے دو بڑے فرقوں نے جدوجہد کی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ سنی اتحاد کے بغیر پاکستان میں اسلامی نظام نہیں چل سکتا اور اتحاد اس صورت میں کہ ہر دو فرقے اپنے فقہی مسائل میں آزادی سے اسلامی شرعی اصولوں پر عمل پیراہوں اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟
ج: میں تو یہی عرض کرتا ہوں کہ پاکستان کے بننے میں بھی سنی شیعہ اتحاد کا کردار تھا اور پاکستان کے تحفظ اور بقاء کے لئے بھی شیعہ سنی اتحاد ضروری ہے۔ بنا برایں اگر پاکستان کو سنی شیعہ نے مل کر بنایا ہے تو سنی شیعہ اب بھی آپس میں اتحاد کر لیں اور مشترکات کی تو بات نہیں لیکن جہاں پر اختلافات ہیں تو ہر ایک کو اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عمل کرنے کی اجازت ہو ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین نہ ہو ایک دوسرے کے احساسات و جذبات کو مجروح کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ بنا برایں اگر ہم نے ایک دوسرے کے احساسات و جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے پرہیز کیا اور ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کرتے رہے تو پھر ہمارا دشمن مشترک ہے جو کفر ہے اور اسلام میں بھی اصول اور ہماری اکثر چیزیں مشترک ہیں ان کی حفاظت کی خاطر اپنے مشترکہ دشمن کے مقابلے میں ید واحدہ بن کر ایک صف میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ خدانخواستہ اگر ہم آپس میں شیعہ سنی، دیوبندی، بریلوی کے جھگڑوں میں لگے رہے تو دشمن کو موقع ملے گا اور ان اختلافات سے نہ سنی کو فائدہ ملے گا نہ شیعہ کو نہ دیوبندی کو نہ بریلوی کو بلکہ دشمنان اسلام کو فائدہ پہنچے گا۔
س: آخر میں آپ ملت اسلامیہ اور ہمارے محترم سامعین کے لئے کوئی پیغام دینا پسند کریں گے؟
ج: پیغام ملت اسلامیہ کے لئے یہ ہے کہ اس وقت اسلام و کفر کا مسئلہ ایک حساس موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ ایران میں جو اسلامی انقلاب کامیاب ہوا ہے ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کی وجہ سے دشمنان اسلام نے اس انقلاب کو محدود کرنے یا اس کو ناکام بنانے کے لئے جو کوششیں اور سازشیں ہو سکتی ہیں وہ انہوں نے کی ہیں۔ اقتصادی پابندی لگانا، ان پر جنگ مسلط کرنا اور ان کے خلاف سیاسی طور پر مہم چلانا وغیرہ تو ایسے حالات میں مسلمانوں کا چونکہ اسلام کا مسئلہ ہے۔ سارے مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ اسلامی انقلاب کو تنہا نہ چھوڑیں اور سارے مسلمانوں کے مقدرات اس انقلاب کے ساتھ وابستہ ہیں۔ خدانخواستہ اس انقلاب کو نقصان پہنچ گیا تو کوئی بھی اسلامی تحریک اور مسلمان اس کے منفی اثرات سے نہیں بچ سکتا اس لئے پاکستان عرب یا کسی دوسری جگہ کا مسلمان ہو سب کا فریضہ ہے کہ اس انقلاب کی حفاظت اور حمایت اپنا شرعی وظیفہ سمجھیں۔ مسلمانوں کو ہوشیار اور بیدار رہنا چاہئے۔ آیتہ شریفہ ''واعتصموا بحبل للہ جمعیا ولا تفرقوا '' کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے۔ اسی جگہ پر میں اپنے پیام کو ختم کرتا ہوں۔
والسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

آپ یہاں ہیں: انٹر ویو و پریس کانفرنس عشرہ فجر کے موقع پر ریڈیو زاہد ان کو انٹرویو