سیمینار: نجات از اسرائیل" سے کوئٹہ میں شہید کا خطاب"

ایمیل Print
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہو گئی ایک روسی بلاک اور ایک امریکی بلاک، جنگِ عظیمِ اول اور جنگِ عظیمِ دوم نے انسانیت کو جس نقصان اور خسارے سے دوچار کیا تو ان دو بلاکوں کو چاہئے تھا کہ وہ ان جنگوں سے درس حاصل کرتے لیکن انہوں نے اسلحہ کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوششیں کیں، بجائے اس کے کہ مال و دولت اور افکار کو تعمیراتی کاموں میں صرف کیا جاتا ان دونوں بلاکوں نے عالمِ انسانیت کی تباہی کے لئے، انسانی توانائیوں کو مہلک اسلحہ کے بنانے میں استعمال کیا اور ایک نکتہ پر یہ دونوں طاغوتی طاقتیں متفق ہو گئیں ان کی حکمت عملی یہ رہی کہ تیسری دنیا میں ایسی مملکتیں اور ایسی کمزور حکومتیں قائم کی جائیں کہ جن کا اپنی عوام کے ساتھ رابطہ نہ ہو اور ےہ حکومتےں وقتاً فوقتاً تبدیل کرتے رہیں تاکہ وہ حکومتیں اپنے تخت اور کرسی بچانے کے لئے ہمیشہ ان دونوں طاغوتی طاقتوں کی محتاج رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ سے نکالنے پر سب مسلمان متفق ہیں افغانستانِ مظلوم کو روسی تسلط سے نجات دلانا تمام مسلمانوں کا ہدف ہے لیکن جب اقوامِ متحدہ سے اسرائیل کو نکالنے کے لئے جمہوری اسلامی ایران نے ایک مہم چلائی تو غیر نمائندہ حکومتیں جن کا مقصد ان طاغوتی طاقتوں کے مفادات کی حفاظت کرنا ہے۔ انہوں نے نہ صرف مسلمانوں اور خود اپنی عوام اور عالم اسلام کی اس دیرینہ خواہش کے برعکس اسرائیل کو اقوام متحدہ سے نکالنے کی یا تو مخالفت کی یا سکوت اختیار کیا، یہ کیوں ہوا؟ اس لئے کہ ان کو وہی کرنا ہے جو ان طاقتوں کو منظور ہو گا۔
دوسرا کام جو ان دو بلاکوں نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے ممالک کی حدود کو وسعت دی اور بے رحمانہ، دوسرے ممالک کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کیا۔ تیسرا کام انہوں نے یہ کیا کہ کمزور ممالک پر جنگ مسلط کی اور پھر ہر ایک کے ساتھ کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کر دیا مثلاً پاکستان کو آزاد تو کر دیا گیا لیکن اس کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ کھڑا کر دیا۔ اسی طرح عربوں میں لبنان عراق اور شام آزاد ہوئے تو ان کے ساتھ اسرائیل جیسے ناسور کو بنا دیا گیا۔ (آگے کیسٹ کٹی ہوئی ہے)
یہ ان دونوں طاقتوں کی حکمت عملی ہے اگر افغانستان میں روس نے اپنے ایک لاکھ سے زیادہ فوجی داخل کئے ہیں تو یہ اسی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے، تو انہوں نے جب دیکھ لیا کہ ١٩٧٧ء کے اواخر میں ایران کے لوگوں میں اسلام کی طرف رجحان بڑھنے لگا اور اسلامی تحریکیں روز بروز زور پکڑنے لگیں تو اس وقت روس نے کیا کیا؟ اس نے ترکئی کی حکومت کو آگے کیا اور ترکئی، روس کے مفادات کی حفاظت کے لئے یہاں تک آگے بڑھا کہ اس نے اسلامی شعائر کی بھی مخالفت شروع کر دی۔ اب جب ایران میں انقلاب کامیاب ہو گیا اور ہر جگہ اسلام کی عظمت کے بارے میں لوگ باتیں کرنے لگے۔ اس وقت ان کو یقین ہو گیا کہ تیسری طاقت اسلام ہے اب اسلام کے ڈر کی وجہ سے کل ایسا نہ ہو کہ روس کے کروڑوں مسلمانوں میں بھی اسلامی روح بیدار ہو جائے اور وہ ہمارے لئے دردِ سر پےدا کریں اس لئے انہوں نے ترکئی حبیب و امین وغیرہ کو ہٹا کر ڈائریکٹ اپنی فوجوں کو افغانستان میں داخل کر دیا لہٰذا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ ان طاغوتی طاقتوں کے سفراء اور وزراء نے اس کا اظہار کیا ہے جیسا کہ آپ کو یاد ہو گا کہ خرم شہر کی فتح کے بعد امریکہ کے وزیر خارجہ ہیگ نے یہ کہا تھا کہ اب اسلام ہمارے لئے ایک خطرہ بن گیا ہے۔
ہم آج دیکھ رہے ہیںکہ افغانستان میں روس داخل ہو کر ہمارے خون، ہماری ناموس اور ہمارے مال کے ساتھ کھیل رہا ہے تو یہ اسلام کے خوف کی وجہ ہے لیکن ہم کس طرح اس کا اظہار کر سکتے ہیں؟ کیا ایک قرارداد کے ذریعہ ہم افغانستان کے مسئلہ کو اقوام متحدہ کے سپرد کرکے، اس سیاسی اڈے پر اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔کبھی اےسا نہےں ہوسکتا۔ تاریخ بہترین استاد ہے، ہمیں تاریخ سے سبق لینا چاہئے۔ فلسطین کے مسئلے کو تقریباً ٣٨ سال ہو گئے ہیں اگر اقوام متحدہ حل کر سکتی تو آج حل ہو چکا ہوتا لیکن اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف قرار دادوں کے ڈھیر تو بڑھ گئے ہےں مگر اسرائیل اپنے ظلم اور تجاوز سے باز نہیں آیا۔ آپ دیکھ رہے ہیں اقوام متحدہ میں جتنے بھی ممالک موجود ہیں ان کا نقشہ موجود ہے اور اس نقشہ پر اس ملک کا دارومدار ہے اگر اقوام متحدہ کے پاس اس نقشے کے ہوتے ہوئے بھی اگر کسی ملک کی سرحدیں معین نہیں ہیں تو وہ اسرائیل ہے۔ ١٩٤٨ء میں جب یہ معرضِ وجود میں آیا تو اس کی سرحد نہیں تھی،دوسرے عرب ممالک کے ساتھ اس نے جنگ کی تو اس کی حدود میںاور اضافہ ہوا اور پھر جب١٩٧٢ء میں اس کی سرحد مزےد بڑھ گئی۔ بعد میں ان کی حدود میں اور اضافہ ہوا آج وہ اس پر بھی اکتفا نہیں کرتا بلکہ اسرائیل کی پارلیمنٹ میں یہ جملہ لکھا ہوا ہے جس کا عربی ترجمہ کرتے ہیں اے اسرائیل تیری سرحدیں جو لان کی پہاڑیوں تک محدود نہیں ہیں۔ تمہاری حدود سینا تک محدود نہیں تمہاری حدود اردن تک محدود نہیں بلکہ فرات سے لے کر نیل تک پھیلی ہوئی ہیں جس میں اکثر و بیشتر مسلمانوں کے مقدس مقامات بھی آتے ہیں جن پر اسرائیل اپنے حق کا دعویٰ کرتا ہے تو اب اگر ہم اس سہارے پر بیٹھیں کہ اقوام متحدہ ہمارے لئے افغانستان کا مسئلہ حل کرے گا تو یہ ہماری غلط فہمی ہے۔ یہ ہماری خوش باوری ہے آج سامراج نے دیکھ لیا ہے کہ افغانستان میں مسلمان مجاہدین جن کے سینوں میں اسلام اور قرآن کی محبت ہے محدود اسلحے کے ساتھ کس طرح روس کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ جب انہوں نے دیکھ لیا تو آج دونوں استعماری ا ور سامراجی بلاک مل کر ایک سازش کر رہے ہیں اور اس سازش کے ذریعہ افغانستان میں ایک ایسی حکومت لانا چاہتے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کا خیال نہ رکھے بلکہ شرق اور غرب کے مفادات کا خیال رکھے جس طرح کہ قرارداد بھی پیش ہوئی ہے۔ روس، امریکہ یا کوئی اور حکومت جنیوا میں یا کسی دوسری جگہ بیٹھ کر وہ اسطرح کے فیصلے کاحق نہیں رکھتے بلکہ افغانستان کے مسئلہ کو ہم اسلامی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ افغانستان کے مسئلہ پر افغانستان کے مظلوم عوام اور سارے مسلمانوں کا حق ہے ۔ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ تقریباً پانچ چھ بڑی جنگیں عرب و اسرائیل کے درمیان ہو گئیں مگر عربوں نے کامیابی حاصل نہیں کی وہ کیوں، اس لئے کہ ان جنگوں میں ہم دیکھ ہے ہیں کہ عرب یا سامراجِ سیاہ کا سہارا لے کر اسرائیل کے خلاف لڑ رہا ہے یا سامراجِ سرخ کا،جبکہ ان دونوں سامراجوں نے تو اسرائیل کے ناسور کو بنایا ہے اگر امریکہ اس کو نہ بناتا اور پہلے روس تسلیم نہ کرتا تو اسرائیل معرض وجود میں نہ آتا۔
اگر اس طرح ہم اسرائیل کے ساتھ لڑیں نتیجہ شکست ہو گا ،یہ اس وقت ہو سکتا ہے جس وقت ہم اسلامی فکر لے کر جیسا کہ ہمارے محترم حجۃ الاسلام آغا محسن علی صاحب نے یہ فرمایاکہ قرآنی سیاست لے کر، اسلامی فکر لے کر، اخوت اسلامی کے ساتھ، اتفاق و اتحاد کے ساتھ ہم اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں اور افغانستان کے مسئلہ کو بھی عزت کے ساتھ حل کر سکتے ہیں جس طرح کہ فلسطین کا مسئلہ سارے مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ اسی طرح افغانستان بھی سارے مسلمانوں کا مسئلہ ہے جس طرح عربوں نے غلطی کی کہ فلسطین کے مسئلہ کو عربوں کا مسئلہ بناکر اپنے آپ کو شکست سے دوچار کر لیا۔ اسی طرح ہم اگر افغانستان کے مسئلے کو صرف افغانستان میں بسنے والے مسلمانوں تک محدود کر یں تو اسی طرح شکست سے ہم دوچار ہوں گے لہٰذا سارے مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے مال کے ذریعہ اور اپنے کام کے ذریعہ اور اپنی فکر کے ذریعہ اور اپنی شمشیر کے ذریعہ فلسطین اور افغانستان کے مسئلے کو حل کریں۔
جہاد باللسان، جہاد بالقلم کے ساتھ اور سیاسی جہاد اور تلوار کے جہادکےساتھ ہم اس مسئلہ کو حل کرےں گے۔ امیر المومنین فرماتے ہیں کہ جنہوں نے جہاد کو ترک کےا وہ ذلیل رہے گا، ہمیں اگر عزت حاصل کرنا ہے ہمیں اگر فلسطین اور افغانستان کو آزاد کرانا ہے تو جہاد کے ذریعہ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کل کچھ حکومتیں یہ کہہ رہی تھیں کہ ہم تلوار کے جہاد سے نہیں بلکہ سیاست کے جہاد سے اسرائیل کو ختم کریں گے اور فلسطین کو آزاد کرا لیں گے۔ آج جب اقوام متحدہ میں سیاسی جہاد شروع ہوگےا ھے تو یہ کہاں چلے گئے ہےں۔ہم اگر افغانستان کے مسئلے کو حل کر سکتے ہیں تو جہاد اسلامی کے ذریعہ خواہ سیاسی سطح پر ہو خواہ وہ قلم کے ذریعہ خواہ وہ تلوار کے ذریعہ ہو، اس کے علاوہ یہ سیاسی یہ قرارداد یہ اقوام متحدہ وغیرہ ان کے ذریعہ کچھ بھی حل نہیں ہو سکتا۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

آپ یہاں ہیں: مقالات سیمینار: نجات از اسرائیل" سے کوئٹہ میں شہید کا خطاب"