راولپنڈی میں شہید باقر الصدر سیمینار سے قائد شہید کا خطاب

ایمیل Print
بسم اللہ الرحمن الرحیم
میرے عزیز بھائیوں اور مہمان گرامی! جس محفل میں آپ تشریف فرما ہیں میں اس کے اغراض و مقاصد اور شہید باقر الصدر کی زندگی کے بارے میں مختصر طور پر آپ کی خدمت میں چند ایک عرائض پیش کروں گا۔
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اس وقت دشمنان اسلام اور سامراج اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل ہیں لیکن جب بھی میدان جنگ میں اسلام اور سامراج کا آمنا سامنا ہوا ہے تو ہمیشہ اسلام نے استعمار و سامراج اور کفر کو شکست دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعمار نے ہمیشہ اسلام کی پشت سے وار کرتے ہوئے اس کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اسلام کو ایسے پیش کرے جس طرح وہ خود چاہتا ہے۔ اس محفل کو منعقد کرنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ ہم اسلام کو اس طرح سمجھیں جس طرح خدا اسے سمجھانا چاہتا ہے اور جس طرح محمد مصطفیؐ اسے لے کر آئے ہیں نہ اس طرح کہ جیسے استعمار چاہتا ہے اور سامراج جس پر راضی ہے۔ پس جب تک ہم اصلی اور حقیقی اسلام کو نہیں سمجھیں گے اس وقت تک ہم سامراج کے پیش کردہ اسلام کو نہیں سمجھ سکتے۔ اس سیمینار کا یہی مقصد ہے کہ ان شخصیات کی تجلیل تکریم کی جائے کہ جن کی ہر دور میں یہ کوشش رہی کہ وہ اسلام کو اس طرح پیش کریں جس طرح اسے محمد مصطفیؐ لائے تھے۔ انہی شخصیات میں سے ایک شہید محمد باقر الصدر بھی تھے کہ جنہوں نے اپنے قلم اور اپنی زبان کے ساتھ اور اپنے خون کے ساتھ حقیقی اسلام کو معاشرے کے سامنے پیش کیا۔
استعمار کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس طرح کے سیمیناروں کا اہتمام کریں اور ایسی محافل منعقد کریں کہ جن سے معاشرے کے سامنے حقیقی اسلام کو پیش کیا جا سکے جیسا کہ اس وقت ہمارے دوستوں نے اس سیمینار کا اہتمام ہے تاکہ شہید باقر الصدر کے افکار کے ذریعے ہم اصلی اسلام کو پہچانیں اگر ہم نے اصلی اسلام کو پہچان لیا تو خودبخود اس اسلام کو پہچان لیں گے اور اسے رد کر دیں گے جو مشرکین اور کفار نے پیش کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اسے ہمارے جوانوں کے ذہنوں میں داخل کریں۔ شہید باقر الصدر ایک فقیہ، اسلامی مفکر اور بہت بڑے اسلامی فلسفی تھے۔
ان کی شخصیت ایک جامع شخصیت تھی۔ یعنی جب ہم انہیں فن تفسیر کے لحاظ سے دیکھتے ہیں تو وہ ہمیں ایک مفسر قرآن نظر آتے ہیں۔ اگر فقہ کے میدان میں دیکھیں تو ایک عظیم فقیہ ہیں اگر فلسفے میں دیکھیں تو وہ ایک بہت بڑے فیلسوف دکھائی دیتے ہیں اور جب وہ علوم روز (جدید علوم) پر بحث کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے صرف انہی علوم روز (جدید علوم) پر بحث کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے صرف انہی علوم میں تخصص (مہارت) حاصل کیا ہے ان کے بارے میں آیت اللہ شیخ مجتبیٰ لنکرانی مدظلہ نجف اشرف میں اپنے درس میں فرما رہے تھے کہ جب شہید صدر  نے کتاب ''فلسفتنا'' لکھی اور وہ چھپ کر بازار میں آئی تو بغداد میں اس وقت کے معروف کمیونسٹ مفکر کے ہاتھ میں پہنچی۔ اس نے کتاب کو اول سے آخر تک غور سے مطالعہ کیا بعد میں اس نے پوچھا کہ یہ کتاب کس نے لکھی ہے تو کسی نے جواب دیا کہ نجف اشرف کے ایک جوان طالب علم نے لکھی ہے تو کسی نے جواب دیا کہ نجف اشرف کے ایک جوان طالب علم نے لکھی ہے (شہید اس وقت جوان تھے) تو اس نے کہا کہ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص (کمیونسٹ) فلسفے کا بانی ہے اور اس مکتب کو اس نے خود سنایا ہے کہ جس کی وجہ سے اسے اس کی تمام کمزوریوں کا علم ہے ایسا لگتا ہے کہ اس عمارت کو خود اس نے بنایا ہے اور چونکہ اس کمزور جگہوں کا اسے پتہ ہے لہٰذا اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے پوری عمارت کو خراب کر دیا ہے۔ اس استاد بزرگوار نے یہ بھی فرمایا کہ یہ کتاب ''فلسفتنا'' یا اسی طرح ''اقتصادنا'' بے نظیر ہیں اور ان جیسی کتابیں پہلے کبھی نہیں لکھی گئیں۔ اسی طرح اقتصادنا کے متعلق نجف اشرف میں آقائے محقق نے یہ قصہ نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ ایک افغانی طالب علم جو روس میں پڑھنے کے لئے گیا ہوا تھا وہ نجف ہمارے پاس آیا تو اس نے سید محمد باقر الصدر سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو میں نے اس سے کہا نجف اشرف میں اتنی بزرگ شخصیات اور علماء موجود ہیں پھر آپ ان میں سے صرف باقر الصدر سے کیوں ملنا چاہتے ہیں تو اس نے جواب دیا کہ میں روس میں زیر تعلیم تھا تو جب وہاں باقر الصدر کی یہ کتاب پہنچی تو حکومت نے یہ اعلان کیا کہ جس کے پاس یہ کتاب نکل آئی اس کو سزا ملے گی۔ یعنی شہید باقر الصدر کے قلم سے ماسکو بھی ڈرتا ہے۔ سامراج نے جان لیا کہ اسلامی ممالک میں ہمارے اہداف و مقاصد کے سامنے سد راہ اور مانع یہی علماء ہیں کیونکہ یہ اسلام کو اسی طرح پیش کرتے ہیں کہ جس طرح وہ ہے لہٰذا انہوں نے یہ سازش کی کہ اسلام کی روح میں تبدیلی لائی جائے یعنی نام تو اسلام کا ہو لیکن اس میں اسلامی روح نہ ہو۔
دوسری سازش انہوں نے یہ کی کہ ایسے متعہد علماء کو اپنے ناجائز مفادات کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے اپنے استے سے ہٹا دیا یہ علماء جو کبھی اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ امریکہ یا روس مسلمانوں کے معاملات میں مداخلت کریں اور ان کے مفادات کو نقصان پہنچائیں۔ اسی وجہ سے شہید باقر الصدر جیسے عظیم مفکر کو انہوں نے ہم مسلمانوں سے چھین لیا۔ اب ہم یہاں پاکستان اور دیگر ممالک سے اس لدئے جمع ہوئے ہیں تاکہ ہم نظام اسلام، اقتصاد اسلام، فلسفہ اسلام اور دیگر موضوعات کو شہید باقر الصدر کے افکار کی روشنی میں دیکھیں کہ جو واقعاً ایک صحیح اسلامی مفکر تھے اور پھر اسی کو اپنے لئے مشعل راہ بنا کر دشمنان اسلام اور سامراج کی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

آپ یہاں ہیں: مقالات راولپنڈی میں شہید باقر الصدر سیمینار سے قائد شہید کا خطاب