تنظیمی احباب سے قائدشہید کا درددل

ایمیل Print

 

argaiv1069

  تقویٰ کی دوسری نشانی 
تقویٰ کی دوسری نشانی یہ ہے(البتہ نشانیاںبہت ہیں)کہ ہم یہاںتحریکوںاور تنظیموں میں کام کرتے ہیں۔ خداوند متعال نے اذہان کے لحاظ سے انسانوں کو مختلف پیدا کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہاں میراآپ کے ساتھ یا دوسرے بھائی کے ساتھ  فکری طورپر کوئی اختلاف ہو جائے۔ اب یہاں پر دوحالتوں سے خارج نہیںہے۔ یا میرے دل میں تقویٰ الہٰی موجود ہے یا تقویٰ الہٰی موجود نہیں ہے۔ یا دوسری مثال:فرض کریں آپ نے پہلے مجھے یونٹ کا کوئی عہدہ دیا تھا بعد میں مجھ سے بہتر ایک  آدمی آپ کو مل گیا جو تنظیم کے لئے زیادہ اور بہتر کام کر سکتا تھا وہ عہدہ آپ نے مجھ سے لے کر اس کو دے دیا۔ اب یہاں پر اگر میرے دل میں تقویٰ موجود ہے تو  پھر اس عہدے کو اگر آپ نے مجھ سے لے لیا پھر بھی میں آپ کی تنظیم کےساتھ اسی طرح فعالیت ٗ سرگرمی اور تعاون جاری رکھوں گا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ میرے دل میں تقویٰ موجود ہے۔ جس جوش و خرو ش کے ساتھ پہلے کام کرتاتھا اگر اسکو بالکل ترک کر دیا یا اس میں کمی کر دی تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ میرے دل میں بالکل تقویٰ موجود نہیں ہے ( اگر میں نے بالکل کام کو ختم کردیا ) یا میرے دل میں تقویٰ کم ہے (اگر میں پہلے دو گھنٹے روزانہ دیتا تھا تو اب دو گھنٹوں کی جگہ پر آدھا گھنٹہ یا ایک گھنٹہ دیتا ہوں ) اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے دل میں  تقویٰ کم ہے ۔ اسی طرح اگر میں نے تنظیم کے لئے کام کیا تھا۔ تنظیم سے غلطی ہو گئی یا مجھ سے غلطی ہو گئی اور آپ نے مجھے اپنی تنظیم سے نکال دیا اب دو حالتوں سے خارج  نہیں ہے یا میں نے دو سال ٗپانچ سا ل ٗ دس سال جو اس تنظیم کے لئے کام کیا تھا   یا اس پر میں راضی ہوں اور خوش ہوں یا اس گزشتہ فعالیت پر میں پشیمان ہوں اگرمیں پشیمان ہو گیا کہ واقعاً میں نے غلطی کی تھی یہ تو ایک سیاسی تنظیم تھی مثلاً اپنی دکانداری یا تجارت کرتا خواہ مخواہ میں نے پانچ یا دس سال اس تنظیم کے لئے ضائع کئے اور آخر میں انہوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔ تو یہ دلیل ہے اس    بات پر کہ میرے دل میں تقویٰ موجود نہیں ہے اور یہ دس سال کام جو میں نے کیا ہے خدا و رسول ؐ اور اہل بیت ؑ و قرآن و اسلام اور تنظیم کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ اپنی شخصیت کے لئے اپنی ساکھ کے لئے اور اپنے مفادات کے لئے کیا تھا۔ چونکہ اگر میرے دل میں تقویٰ موجود ہوتا اگر میں نے سب کام خدا کے لئے کیا ہوتا تو میں ناراض نہ ہوتا میں خفا نہ ہوتا اس لئے کہ میں نے تو تنظیم کے لئے اور لوگوں کے لئے کام نہیں کیا تھا خدا کے لئے کیاتھا اب اگر آپ نے مجھے فارغ کر دیا ہے تو    خدا نے تومجھے فارغ نہیں کیا۔ اگر آپ نے میرے احسانات کو بھلا دیا ہے تو خدا   نے تو انہیں فراموش نہیں کیا۔ بنابرایں اگر میرے دل میں تقویٰ الہٰی موجود ہے تو   میں کہوں گا کہ الحمد للہ میں نے دس سال اس تنظیم کے لئے اپنا وظیفہ شرعی ادا کیا   ہے اب ہمارے بھائی مناسب نہیں سمجھتے کہ میں اس تنظیم میں مزید رہوں تو اگر میں تنظیم سے خارج ہو گیا تو اسلام سے خارج نہیں ہوا۔ ہم بعض اوقات تنظیم       اور اسلام کو ایک سمجھتے ہیں کہ اگر مجھے تنظیم سے نکال دیا تو گویا میں اسلام سے بھی  نکل گیا۔ آئی۔ایس۔او میں جب تھا تو داڑھی رکھی ہوئی تھی جب اس سے نکل گیا    تو داڑھی بھی منڈوا دی اگر پہلے مسجد میں آتا تھا دعائے کمیل میں آتا تھا تو جب   آئی ۔ایس۔او والوں نے مجھے فارغ کر دیا تو پھر مسجد کو بھی خدا حافظ کہہ دیتا ہوں ’’ھَذَا فَرَاق ُ بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ فِیْ اَمَانِ اللّٰہِ ‘‘ یہ دلیل ہے اس بات پر کہ  میرے دل میں تقویٰ موجود نہیں ہے اور میں نے جوکچھ کیا ہے خدا کے لئے نہیں   کیا ہے ۔
 

کام صرف خدا کے لئے ہونا چاہیے

برادر عزیز! کام کرو لیکن خدا کے لیے ۔ اگر زیادہ کرو لیکن خدا کے لئے نہ ہو تو یہ سراب جیسا ہو گا کہ جیسے دور سے انسان کو پانی نظر آتا ہے لیکن جب نزدیک   جاتا ہے تو کچھ نہیں ہوتا۔ یہ آپ کو یہاں کچھ دکھائی دے رہا ہے لیکن موت کے   بعد آپ دیکھیں گے کہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ کم کام کرو لیکن خدا کے لئے ہو خلوص    کے ساتھ ہو۔ آپ نے خود اپنے بینروں پر شہید مطہریؒ کا یہ فرمان لکھا ہوا ہے کہ   اپنی ذات کے لئے کام کرنا بت پرستی ہے اور خدا اورلوگوں کے لئے کام کرنا شرک  ہے۔ اپنا اورلوگوں کا کام خدا کے لئے کرناعین توحید ہے۔ پس لوگوں کے لئے یا  تنظیم کے لئے کام کرنا کس کی خاطر ہونا چاہیے؟ صرف خدا کے لئے !! اصل محور   خدا ہونا چاہیے وہ ذات اور وہ نقطہ جس کے اردگرد ہمارا سب کچھ گھومتا ہو وہ کیا    ہوناچاہیے؟ خدا !!  جیسا کہ کیمونسٹوں کے نزدیک محور آلات و ابزار ، اقتصاد ہیں ہمارے نزدیک سب چیزوں کا مرکز خدا ہونا چاہیے اگر ہم خدا کے لئے کام کریں گے  تو ہم خوش ہوں گے کیونکہ اس کا ہمیں نتیجہ ملے گا۔ آپ نے دیکھا ہو گا میں نام  نہیں لوں گا بہت سے لوگوں نے کام کیا بڑی بڑی ہستیاں تھیں لیکن ان کے مقابلے میں دوسری ہستیاں بھی تھیں وہ جنہوں نے خدا کے لئے کام کیا اگر چہ کم تھا لیکن   آج ان کو خدا کے علاوہ ہم سب مسلمان بھی یاد کر رہے ہیں۔ جنہوں نے خدا کے  لئے کام نہیں کیا تھا خدا ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ؟ ( یہ تو وہ خود جانتا ہے ) آج لوگوں نے بھی ان کو بھلا دیا ہے ۔

 




آپ یہاں ہیں: مقالات تنظیمی احباب سے قائدشہید کا درددل