تنظیمی احباب سے قائدشہید کا درددل

ایمیل Print

 

argaiv1069

تقویٰ کی تیسری نشانی
تقویٰ کی تیسری نشانی یہ ہو گئی کہ اگر ہمارے دلوں میں تقویٰ موجود ہے تو پھر اگر ہمیں تنظیم سے نکال دیا جائے تو دس سال جو ہم نے کام کیا ہے اس پر ہم پشیمان نہ ہو جائیں اگر ہم پشیمان ہو گئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے خدا کےلئے کام نہیں کیا تھا۔ ایک اور نشانی یہ ہے کہ جس تنظیم میں بھی انسان کام کرے   البتہ سلسلہ مراتب اپنی جگہ پر محفوظ ہو اس سے بڑھ کر ہم عہدوں کو مقصد نہ سمجھیں اگر ہمارے دلوں میں تقویٰ موجود ہے تو پھر ان عہدوں کو وسیلہ سمجھیں اور   ان کے ذریعے ہم اعلیٰ و برتر و وسیع مقصدکے لئے کام کریں اگر ہم نے انہیں مقصد سمجھ لیا تو پھر جیسا کہ امام خمینی ؒ مدظلہ نے بنی صدر منافق کے دور میں یہ جملہ  فرمایا تھا کہ اگر آپ یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ سب کچھ میرے چینل کے ذریعے ہو اور جو کچھ میرے چینل کے ذریعے ہو گا وہ سو فیصد صحیح اور عین اسلامی ہو گا اور اگر  وہی کام زید کرے تو وہ غیر اسلامی اور غیر شرعی ہے اگر یہ سوچ رکھتے ہو تو یہ اسلامی سوچ نہیں ہے اور تقویٰ کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتی۔ آپ کا مطمع نظر یہ ہو کہ اس معاشرے  میں ان مظلوموں کی جو مشکلات ہیں اگر ہمارا یہ مقصد ہو کہ ان بیچاروں کی مشکلات حل ہو جائیں اور ان کے دردوں میں سے کچھ کی دوا ہو  جائے خواہ وہ دوا میرے ذریعے سے ہو یا دوسرے کے ذریعے سے ہو۔ اب ہم  بعض اوقات ناموں سے بگڑ جاتے ہیں ابھی تک یہ موقع نہیں آیا لیکن خوب یہ بھی  بعید نہیں ہے کہ ناموں تک آجائیں کہ ہم مثلانام پر آپس میں جھگڑیں کہ یہ کام آئی۔ایس۔او کے نام سے ہونا چاہیے۔ کام ہو گا لیکن نام آئی ۔ایس۔او کا ہونا چاہیے۔ دوسرا کہے نہیں آئی ۔او کا ہوناچاہیے تیسرا کہے نہیں تحریک کے نام سے ہونا چاہیے۔ اگر ہم آپس میں الجھ گئے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم میں تقویٰ نہیں ہے ۔ بابا ہمیں تو یہ نہیں دیکھنا ہے کہ میرے نام سے ہو یا آپ کے نام سے ہو  میرے ذریعے ہو جائے یا آپ کے ذریعے ہو جائے دیکھنا یہ ہے کہ کام ہو جائے اب اس سلسلے میں ہم نے ایسے اشخاص بھی دیکھے ہیں جنہوں نے بعض جگہوں پر خدمات انجام دی ہیں مثلاً یہیں کراچی میں چھ جولائی کو ہمارے ساتھ جو مسئلہ پیش آیا تھا    ہم نے ایک صاحب سے کہہ دیا کہ زخمیوں کے لئے کمک و مدد کی ضرورت ہے تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے لیکن ہمارا نام نہ لیں یا اسی طرح ایک اور بزرگ شخصیت ہیں جو چاہتے ہیں کہ کسی جگہ پر اس قسم کے کام کریں لیکن وہ نہیں چاہتے  کہ ان کا نام لیا جائے یہ تقویٰ کی دلیل ہے ۔ چونکہ ہمارے لئے مسئلہ یہ ہے کہ یہ نفس بڑا خطرناک ہے یہ مختلف راستوں سے انسان کو گمراہ کرتا ہے بعض اوقات ریا  کے ذریعے انسان کو خراب کر تا ہے پس اگر ہم ان چیزوں میں لگ جائیں کہ میرا نام ہوجائے۔ چونکہ آئی او کے ساتھ مربوط ہوں یا تحریک کے ساتھ ہوں یہ جو ہم تحریک کا نام لیتے ہیں درحقیقت ہمیں تحریک کی فکر نہیں ہوتی ہمیں اپنی فکر ہو تی ہے تحریک کا نام اس لئے لیتے ہیں کیونکہ تحریک میں ہم ہیں تو یہ خود ایک قسم کی ریا ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ میرے دل میں تقویٰ نہیں ہے ہمیں تو کام  کرنا چاہیے تھا چاہے وہ جس کے نام سے ہو۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے کاموں کارنگ اسلامی ہو تو ہمیں ان چیزوں سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے فلاں نام یا میرا عہدہ وغیرہ یہ نہیں ہونا چاہیے۔

تقویٰ کی چوتھی نشانی

تقویٰ الہٰی کی چوتھی نشانی یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو افلاطون نہ سمجھے اگر میں کسی تنظیم میں ہوں آئی ۔ ایس ۔ او  ٗ آئی ۔ او  یا تحریک میں ہوں اور میںیہ سوچ رکھتا ہوں کہ اس تنظیم میں جو کچھ میں سمجھتا ہوں وہ اس تنظیم کے دوسرے افراد نہیں سمجھتے۔ اگر میں یہ سوچ رکھتا ہوں تو یہ بھی تقویٰ کے خلاف ہے۔اگر ہمارے  دلوں میں تقویٰ موجود ہے تو (فَوْق َ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ ‘‘)  ہر باعلم شخصیت کے اوپر خدا نے اس سے زیادہ علم رکھنے والے کو رکھ دیا ہے۔ مثال: کے طورپر میں آئی۔ایس۔او یا آئی ۔او میں آیا ہوں تو ابھی جو لڑکے مجھ سےایک یا دو سال بعد ہیں اب میں ان پر بزرگی ثابت کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں ان   سے ایک سال پہلے آیا ہوں۔ یہ تو کوئی بزرگی نہ ہوئی۔ چونکہ یہ مجھ سے ایک سال   عمر میں چھوٹے ہیں اگر یہ مجھ سے ایک سال بڑا ہوتا تو یہی مجھ سے ایک سال پہلے تنظیم میں آتا ۔ یہ تو فضیلت کا معیار نہ ہواکیونکہ دو سال پانچ سال اس سے پہلے اس تحریک میں آیا ہوں لہٰذا اگر ایک مجلس ہو تو مجھے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ چونکہ    میں اس سے پہلے اس تنظیم میں آیا ہوں لہٰذایہ میرے احترام کے لئے اٹھے اگرچہ   وہ مجھ سے زیادہ کام کیوں نہ کرتا ہو۔ پس ہم میں یہ سوچ نہیں ہونی چاہیے اور یہ   کہ میں سوچوں کہ جو کچھ میں سمجھتا ہوں یہی حرف آخر ہے اور دوسرے بھائی یہ   نہیں سمجھ سکتے تو یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔ میں نے کل بھی ادھر عرض کیا کہ ہمارے مراجع عظام وہ بھی جب حالات اِدھر اُدھر ہو جاتے ہیں اور ان کے فتویٰ میں   تبدیلی آجاتی ہے تو وہ اعلان کرتے ہیں اب ہماری تنظیموں میںیہ بات پیدا ہو جائے کہ مثلاً یہ جو میں آپ سے چند دن پہلے آیا ہوں میں کہوں کہ میں تو سمجھتا ہوں   آپ اگر اچھے بھی ہیں لیکن چونکہ آپ کو ایک سال ہوا ہے کہ اس تنظیم میں آئے   ہیں۔ لیکن جب آپ بات کرتے ہیں کہ’’چپ ہو جائو بیٹھ جائو تم تو کل آئے ہو تم  بات کرتے ہو ‘‘ یہ تقویٰ نہیں ہے۔ ہو سکتاہے کہ وہ مجھ سے زیادہ سمجھتا ہو ہو سکتا    ہے اس کے ذہن میں ایسے نکات ہوںجن تک میرا ذہن نہ پہنچا ہو تو ہمیں یہ سوچ اپنے ذہن سے نکال دینی چاہیے بلکہ حقیقت یہ ہے ابھی چونکہ بحث بہت طولانی ہوجائے گی لیکن شہید مطہر ی رحمتہ اللہ علیہ نے تین مراحل قرار دئیے ہیں اور آخری مرحلہ یہ ہے کہ جتنا انسان زیادہ سمجھتا جاتا ہے اتنا انسان زیادہ اپنے جہل کا اقرار کرتا ہے کہ میں تو نہیں سمجھتا۔ یہ اگر تھوڑی سی معلومات ہم نے حاصل کر     لیں پھر ہمارے ذہن میں فرعونیت آجائے اور ہم اپنے آپ کو افلاطون زمان سمجھ کر دوسرے کو اصلاً موقع نہ دیں تو یہ ہمارے دل کا تقویٰ سے خالی ہونے پر دلیل ہے ۔ جناب عالی یہ سوچ ہمارے ذہنوں میں نہیں ہونی چاہیے۔ اب مثال کے طور پر میںنے آپ سے چندمسئلے زیادہ سیکھ لئے ہیں ٹھیک ہے پس اگر میرے ذہن میں یہ آیا کہ میں ان سے بالاتر ہوں تو بابا مجھ سے مجتہد زیادہ جانتا ہے مجتہد سے پھر امام معصوم ؑ زیادہ جانتے ہیں۔ تو اب ہمیں نیچے نہیں دیکھنا چاہیے اب ہمیں اوپر دیکھنا چاہیے۔ میں اگر یہ دیکھ لوں کہ میری معلومات ان سے زیادہ ہیں تو بہتر ہے کہ میں اپنے اوپر علماء اور مجتہدین کو دیکھوں کہ ان کی کتنی معلومات ہیں ۔ پس اگر میں اوپر  کو مدنظر رکھوں گا تو پھر میں دوسروں پر اور جو مجھ سے کم معلومات رکھتے ہیں ان پر فخرو مباحات نہیں کروں گا اور نہ ہی میں اپنے آپ کو کسی سے بالاتر سمجھوں گا ۔

 




آپ یہاں ہیں: مقالات تنظیمی احباب سے قائدشہید کا درددل