تنظیمی احباب سے قائدشہید کا درددل

ایمیل Print

 

argaiv1069

تقویٰ کی پانچویں نشانی

تقویٰ کی پانچویں نشانی یہ ہے کہ ہمیشہ اپنے آپ کو کم سمجھو اپنے آپ کو سب سے چھوٹا سمجھ لو اگر چہ ٹھیک ہے کہ خدا نے آپ کو مقام دیا ہے آپ کے بھائی بھی آپ کو نظر انداز نہیں کریں گے لیکن آپ کے لئے مناسب نہیں ہے کہ آپ   اپنے آپ کو بڑا سمجھیں۔ آپ خود قائد عظیم الشان انقلاب کو دیکھیں کبھی انہوں نے نہیں کہا کہ میں یہ ہوں وہ ہوں بلکہ وہ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ’’من یک طلبہ ام‘‘ یعنی میں ایک طالب علم ہوں اور یہ بات کہتا چلوں (معذرت چاہتا ہوں ) میرا کسی خاص آدمی کی طرف اشارہ نہیں ہے ہم کلیات کو بیان کرتے ہیں اگر اس سے پھر  آپ کے ذہن میں کوئی خاص آدمی آجائے تو اس میں میرا قصور نہیں ہے۔ یہ جو ہم منبروں پر کہتے ہیں ۔’’ میں یہ کہتا ہوں ‘‘یہ ’’ میں ‘‘ کا لفظ جو آتا ہے یہ بڑا خطرناک ہے بہت خطرناک لفظ ہے ۔ اس لئے میں نے عرض کیاکہ انسان کی معلومات جتنی زیادہ ہوتی جاتی ہیں اس کا علم زیادہ ہوتا جاتا ہے اتنا اس کا تواضع زیادہ ہوتا جاتا ہے اتنا اسے اپنے جہل کا زیادہ احساس ہوتا ہے۔ اب اگر میں یہ کہوں کہ ’’میں ‘‘ مثلایہ کہتا ہوں اس کا مقصد یہ ہے کہ میرے دل میں ایک بت چھپا ہوا ہےجویہ بات میری زبان سے کہلواتا ہے ۔ آپ نے خود بار بار سنا ہو گا بنی صدر منافق کے زمانے میں امام خمینی ؒ نے ایک تقریر میں فرمایا تھا ۔
’’برکس بگویدمن این شیطان است نگومن ٗ بگومکتب من‘‘
یہ کہ میں یوں ہوں ٗفلاں ہوں ٗ ایسی باتیں مت کرو ٗاپنے مکتب کی بات کرو جو آپ کی فکر ہے جو آپ کا مدرسہ ہے جو آپ کا دین ہے اس کی بات کرو اگر ہم یہ کہیں کہ میں یوں ہوں میں فلاں ہوں تنظیم میں یا میں منبر پر کہوں ’’ میں ‘‘ تو یہ   اس بات پر دلیل ہے کہ اس دل میں تقویٰ موجود نہیں ہے۔ یہ حقائق ہیں برادر۔  اب میں نے عرض کیا کہ میری مراد کوئی خاص فرد نہیں ہے لیکن یہ ایک واقعیت ہے جو میں آپ کی خدمت میں عرض کر رہا ہوں ۔ جس شخص کے دل میں تقویٰ ہو   گا وہ ’’میں‘‘ نہیں کہے گا۔ ابھی بھی بھائی کے ساتھ یہ بات ہو رہی تھی کہ دوست بھی جانتے ہیں اور دشمن بھی جانتے ہیں کہ اس انقلاب میں جو کر داررہبر کبیر عالم اسلام حضرت امام خمینی روحی لہ الفدا کا ہے وہ کسی اور کا نہیں ۔سب جانتے ہیں کہ  اگر امام خمینی نہ ہوتے تو انقلاب کی کامیابی کو تو چھوڑیں یہ انقلاب شروع ہی نہ   ہوتا۔ کامیابی تو دوسرا مسئلہ ہے۔ حفاظت تیسرا مسئلہ ہے ۔ پہلا مرحلہ ہوتا ہے انقلاب کا جاری اورشروع ہونا۔ دوسرامرحلہ ہے انقلاب کو کامیابی تک پہنچانا۔ تیسرا مرحلہ ہے انقلاب کو کامیابی کے بعد محفوظ رکھنا۔ خوب ان تین مراحل میں جو کردار رہبر کبیر کا ہے وہ کسی کا نہیں ہے یہ سب جانتے ہیں ۔ خوب اب دوست بھی جانتے ہیں کہ انقلاب امام خمینی نے برپا کیا ہے اورآج بھی امام خمینی کی برکت سے قائم ہے دشمن بھی جانتے ہیں لیکن آپ حضرت امام کی تقریر بھی سن لیں   1983ء میں یا شاید اس سے پہلے ایک کتاب چھپ چکی ہے۔ ’’صحیفہ نور‘‘  جس کی تیرہ جلدیں میرے پاس بھی ہیں اس میں امام خمینی کی تقریریں خطوط اور انٹرویوز سب کچھ نقل کئے گئے ہیں ابتدائی دور سے اب تک۔ آپ ایک جگہ ثابت  نہیں کر سکتے کہ امام نے فرمایا ہو کہ میںنے انقلاب برپا کیا میں نے اس انقلاب کی حفاظت کی وغیرہ ۔ اگر امام خمینی کے دل میں تقویٰ الہٰی نہ ہوتا تو وہ یوں کہتے ۔ہم ایک مدرسہ بناتے ہیں تو جب بھی ہمیں کوئی موقع ملتا ہے ہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر میں مدرسہ بنایا ہے میں نے مسجد بنائی ہے میں نے یہ کیا    ہے میں نے وہ کیا۔ ایک تقریر میں آدھا وقت تو میں اپنے تعارف پر ختم کرتا ہوں کہ میں نے یہ کیا میں نے وہ کیا ۔ اب آگے بھی ہمارے یہ ارادے ہیں لیکن امام نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ میں نے یہ کیا ہے ۔ اب یہاں پر آپ تنظیم میں جو فعالیت کرتے ہیں وہ اپنی جگہ پر درست ہے لیکن آپ کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میںجب اپنے دور میں  صدر تھا ٗ جنرل سیکرٹری تھا ٗ میں نے یہ کیا میں وہ کیا۔ آپ کو نہیں کہنا چاہیے۔     ہاں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بہر حال ہمیں کچھ کرنا چاہیے تھا لیکن ہمیں توفیق نہیں ہوئی یعنی آپ یہ اظہار کریں کہ اتنا ہمیں کرنا چاہیے تھا لیکن ہم سے نہ ہو سکا اگر  تقویٰ ہے تو پھر ہماری زبان پر یہ ہو گا کہ ہم کام نہ کرسکے ہم اقرار کرتے ہیں ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم زیادہ کام نہیں کر سکے۔ ایک درد میں سے ایک درد ہے اگر ہم نے کچھ بھی نہیں کیا اور ابھی چونکہ ہمارے یونٹ کا مرکزی سطح پراجلاس ہونے والا ہے ہمیں تو کچھ کاغذی کاروائی بنانی ہے ۔ ادھر ادھر سے اگر انجمن والوں نے کوئی فنکشن کیا ہواسکو ہم نے اپنے نام سے لکھنا ہے اگر فرض کیجئےکسی پرندے نے درخت پر بیٹھ کر آواز دے دی تو اسے بھی اس میں لکھنا ہے یہ کہ وہاں تو مثلاً کچھ بتانا ہے۔ یہ ایک درد ہے واقعاً درد ہے ۔ آپ ہماری دوسری تنظیموں کی نسبت الحمد للّٰہ زیادہ منظم ہیں اور آپ میں الحمد للّٰہ خلوص پایا جاتا ہے اور ابھی آپ کے اذہان اتنے خراب نہیں ہوئے ہیں آپ سے ہمیں امید ہے۔ انشاء اللہ آپ اس مرض میں زیادہ مبتلا نہیں ہوں گے۔ اگر مبتلا ہیں تو اس کو ختم کریں گےاور اگر مبتلا نہیں ہیں تو آئندہ اس مرض میں مبتلا نہیں ہونے کے لئےابھی سے فکر کریں۔ کہ ہم اگر کچھ بھی نہیں کرتے اور قوم کو بتانا ہے اپنی مرکزی کابینہ کو اجلاس میں بتانا ہے۔ دو سال پہلے بھی ہم نے اس دن دیکھاتھا کہ اپنی کچھ ڈویژنوں/ضلعوں نے بعض جگہوں پر ۸۵ء کی باتیں بتائیں یعنی انہوں نے جو پہلے کاروائیہوئی تھی چونکہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں لہٰذا انہوں نے وہ کاروائی بھی اس سال میں پیش کی۔

آئی۔ایس۔او کے جوانوں کو خراج تحسین ۔

خوب تو یہ نشانیاں ہیں تقویٰ کی اگر بخدا ہم نے تقویٰ اپنے دلوں میں پیدا کیا تو پھر ہم اپنی تنظیم کو پارٹی بازی میں تبدیل نہیںکریں گے مجھے امامیہ اسٹوڈنٹس کے عموماً اور کراچی کے امامیہ اسٹوڈنٹس کے جوانوں سے خصوصاًمحبت ہے پہلے خصوصاً ۷ جولائی کو جو میرے پاس آئے تھے معذرت چاہتا ہوں ہمارے دوسرے رفقاء ہمارے نزدیک نہیں آتے تھے تو انہوں نے رات ایک بجے تک دو بجے تک کام کیا اور دن کو بھی اس وقت تک جب ہم یہاں سے چلے گئے یہ شب و روز کام کرتے رہے ۔ تو میں نے ادھر بھی جا کر کہہ دیا کہ واقعاً کس خلوص کے ساتھ یہ کام کرتے ہیں یہاں    تک کہ کسی چیز کی توقع نہیں رکھتے ۔ کام کرتے ہیں اگر ہم ان جوانوں کے احساسات کی قدر نہیں کریں گے اور جس طرح خلوص کے ساتھ کام کرتے ہیں ہم بھی اسی    خلوص کے ساتھ ان کے ساتھ نہیں چلیں گے تو ہم کس منہ کے ساتھ خدا کے سامنے کل حاضر ہوں گے ۔

 




آپ یہاں ہیں: مقالات تنظیمی احباب سے قائدشہید کا درددل