تنظیمی احباب سے قائدشہید کا درددل

ایمیل Print

 

argaiv1679

اتحادو اتفاق کی ضرورت ۔

یہ میں عرض کروں کہ مجھے جو معلومات پشاور میں حاصل ہوئی ہیں یہاں پر بھی آکر حاصل ہوئی ہیں وہ یہ ہیں کہ آپ میں کچھ گروہ بندی پیدا ہوگئی ہے اور آ پ یک دست ہو کر جس طرح کہ آپ کو متحد ہونا چاہیے اس طرح نہیں ہیں۔ یہ ایک مرض ہے۔ دیکھیں بھائی یہ میں بار بار کہتا ہوں مجھ ملاں کو شیطان سینما نہیں لےجاسکتا سمجھ گئے ۔ مجھ ملاں کو شیطان شراب کی دکان پر نہیں لے جاسکتا مجھ ملاں کو شیطان داڑھی مونڈھنے کے لئے نہیں ورغلا سکتا۔ چونکہ لوگوں میں بدنام ہو جائوں گالوگوں کے ڈر کی وجہ سے میں سینما نہیں جا سکتا ۔ لوگوں سے شرم کی وجہ سے داڑھی نہیں مونڈھ سکتا۔ مجھ ملاں کو مختلف زاویوں سے شیطان گمراہ کرے گا۔ آ پ امامیہ اسٹوڈنٹس کو بھی اسی طرح۔ اب آپ کی تنظیم ماشاء اللہ ایک حد تک پہنچ گئی ہے کہ عام باتوں پر جو دوسرے جوانوں کوشیطان اغوا کرتا ہے آپ کو اغوا نہیں کرسکتا۔ آپ کو کس طرح اغوا کرے گا؟ آپ کو اس طرح اغوا کرے گا کہ آپ کے دل میں یہ ڈال دے گا کہ جو چھ میں سمجھتا ہوں یہ سو فیصد امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کاخط ہے میرا دو سرا بھائی جو کہ اس خط پر نہیں چل رہاوہ امریکی ایجنٹ ہے یہ  دوسروں کی طرف سے مامور ہے ۔ یہ صحیح بات نہیں ہے یہا ں سے شیطان آپ کوگمراہ کرے گا یہاں سے شیطان آپ کو ورغلائے گا بھائی آپ فوراً مجھے امریکی ایجنٹ نہ بنائو ہو سکتا ہے مجھے غلط فہمی ہو گئی ہو ٗ ہو سکتا ہے آپ غلط سوچ رہےہوں۔ پس اس تنظیم میں ہم دھڑے بندی نہ بنائیں جس سے پوری تنظیم کو نقصان پہنچے اگر آپ کے دلوں میں تقویٰ ہے اگر آپ خدا کے لئے کام کر رہے ہیں اگرآپ امام زمانہ ؑ کی خوشنودی کے لئے کام کر رہے ہیں تو پھر آپ کو کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے آپ کی اس پاک اور منظم تنظیم جس پر بہت خرچ ہوا ہے جس کے لئے کافی تکلیفیں اٹھائی گئی ہیں اس تنظیم کونقصان پہنچے اگر تقویٰ آپکے دل میں موجود ہے تو آپ قربانی دے دیں۔ فرض کریں۔ ایک بھائی کی سوچ آپ کے موافق نہیں ہے تو آپ یہاں پر اس مسئلے کو وقتی طورپر متوقف کرکےاپنے اوپر سے بالاترجو ماشاء اللہ مسائل اسلامی پر زیادہ مطالعہ رکھتے ہیں زیادہ ملت شیعہ کے مسائل پر نظر رکھتے ہیں آپ ان سے مشورہ لے لیں ان تک بات پہنچائیں نہ یہ کہ آپ وہاں تنظیم میں گروہ بندی شروع کر دیں اور اس گروہ بندی کے نتیجے میں تنظیم کو نقصان پہنچے ہم یہ کہتے ہیں ا س دفعہ بھی میں نے آپ کی خدمت میں آپ کے مرکزی صدر محترم جب پشاور آئے تھے ان کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ ہم یہ نہ سوچیں کہ بالکل ہمارے رفقاء کی سوچ میں کوئی دوسری سوچ نہیں ہو سکتی ۔ آپ آئی۔ایس۔او کے ساتھ ہیں دشمنان اسلام اس کےخلاف حصار قائم کرتے ہیں۔اس کی ناکامی کے لئے وہ منصوبے بنائیں گے وہ  سوچیں بنائیں گے اور ان میں سے یہ ہو گا کہ یا ڈائریکٹ وہ آپ کے اندر اپنے  افراد کو بھیج دیں وہ افراد جو آئیں گے وہ داڑھی والے ہوں گے وہ ہر لحاظ سے باقاعدہ مثلاً آ پ سے زیادہ اپنے آپ کو مذہبی پیش کریں گے ۔ خوب جس طرح کہ عام طور پر بھی ہے قم میں اور دوسری جگہوں میں بھی اس قسم کے افراد جو دوسروں کی طرف سے تھے اور وہ مثلاً اسلامی لباس بھی پہنتے تھے وغیرہ وغیرہ یا اگر وہ ڈائریکٹ نہ آسکیں تو ہو سکتا ہے کہ مجھ کو وسیلہ بنائیں اور پھر ان کے ساتھ رابطہ ہو اوروہ میرے ذہن میں اپنے افکار کو ڈالتے رہیں اور وہ میرے ذریعے آپ کے درمیان رخنہ ڈال دیں تو میں آپ کو اور آپ کے دوسرے مثلاً بھائی کو ان دونوں کو یہ نہیں کہتا  آپ ایجنٹ ہیں یا وہ ۔ آپ ان پر الزام نہ لگائیں و ہ آپ پر نہ لگائیں اور جیسا کہ پہلے بھی میں نے عرض کیا آپ دوسرے بھائی کے فعل کو حمل برصحت کر لیں (یعنی  اسے صحیح سمجھیں ) اور اپنی تنظیم میں ڈھڑے بندی بنانے کی بجائے آپ مسئلے کو    اپنے سے بالاتر جو آپ کی مجلس نظارت ہے ان تک پہنچائیں تا کہ ادھر سے مسئلہ حل ہوجائے اور اس سے ہمیں تشویش ہے ۔ خدانخواستہ آپ کی تنظیم کو اس سے  نقصان پہنچے گا اورانشاء اللہ ہم نے یہ جو باتیں آپ کی خدمت میں عرض کیں صرف اس لئے نہیں ہیں کہ آپ انہیں سن لیں ۔ ہمیں یہ توقع ہے کہ آپ عملی طور پر اس کو اپنے دل میں جگہ د ے دیں گے ۔ اور خصوصا یہ ڈھڑے بندی جیسا  کوئی مسئلہ ہو خدا کرے کہ نہ ہواس کو آپ یہاں چھوڑ دیں گے اور آپ جب    یہاں سے نکلیں گے تو ید واحد بن کر اور آپ کے دل ایک ہو کر یہاں سے اپنے مورچے کی طرف واپس ہو جائیں گے ۔




آپ یہاں ہیں: مقالات تنظیمی احباب سے قائدشہید کا درددل