برائت از مشرکین ۔ کراچى میں خطاب

ایمیل Print


اگر آج خمینی عظیم، فرزند رسول اعظم ، نائب آئمه اطهار علیهم السلام لوگوں کو کهتے هیں که حج  کے موسم میں مستکبرین و مشرکین سے اظهار برائت کر لو اور آل سعود اور ان کے پٹھو لوگوں کو  کهتے هیں که یه جھوٹ هے۔ هم یه کهه سکتے هیں امام خمینی اپنے جد اعظم  کی سنت کو عام  کر رهے هیں جبکه آل سعود اور ان کے پھٹو منافقین کی سنت ادا کر رهے هیں۔

برادران عزیز!  بخدا مسئله سنی شیعه کا نهیں هے۔ میں سنی بھائیوں کی خدمت میں عرض کرتا هوں که مسئله سنی شیعه کا نهیں هے۔ خدا را آپ غیر جانبدار هو کر اس مسئله پر سوچیں که حج سے آل سعود کیا حاصل کرنا چاهتے هیں۔ میں کل بریلوی بھائیوں کے اجتماع میں یه بات عرض کر رها تھا که آل سعود نے حج کو بے معنی اور بے مقصد بنا دیا هے۔
اسی طرح همارے حکمرانوں نے اعلان کیا هے که هم غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائیں گے۔ یه  قانون کے ساتھ غداری هے۔ هم سمجھتے هیں که یه قانون کی شقوں کو پامال کرنا هے۔ یهاں تک که 73 ء کا آئین تو چھوڑ دیں یه اپنے 85 ء کے بنائے هوئے قوانین کا بھی احترام نهیں کرتا۔

argaiv1069

 
اس قسم کے حکمران اپنے درباروں میں ملاں رکھتے هیں۔ ایک مذهبی اور اسلامی معاشرے میں ایک حکمران اس وقت تک نهیں چل سکتا جب تک که وه اپنے هر فعل کو اسلامی رنگ نه دے دے۔ یه درباری ملاں حکمرانوں کے خلاف اسلام اور خلاف شرع کاموں کو اسلامی رنگ دیتے هیں۔ اسی طرح یه ملاں  آل سعود کی غیر اسلامی حرکات کو اسلامی رنگ دے رهے هیں۔ اس قسم کے لوگ کبھی نهیں  دیکھتے که قانون کیا هے؟ اپنی خواهشات کے مطابق کام کرتے هیں پھر اس کو قانونی رنگ دینے کے  لئے اپنے پالتو افراد سے مدد لیتے هیں۔
میں ایک صحافی ارشاد احمد حقانی کا تبصره پڑھ رها تھا که انهوں نے لکھا که جب ضیائ الحق نے 85ء میں انتخابات کا اعلان کیا تو ایم آر ڈی والوں کا جلسه تھا۔ اس دن ضیاء سارا دن مصلے پر بیٹھا رها اور  دعائیں کرتا رها یعنی اس جلسے کا حکمرانوں پر اس قدر اثر اور خوف تھا۔ اگر حج میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان جو امریکه و روس اور اسرائیل کے دشمن هیں، مکه میں جمع هوتے اوریه حج بامقصد  هوتا تو امریکیوں روسیوں اور اسرائیلیوں پر حج کے موسم میں نیند حرام هو جاتی۔

آپ شیعان حیدر کرار، شاگردان مکتب فقه جعفریه، پاکستان میں ریگل چوک میں مظاهره کرتے هیں تو  امریکیوں کے ایوانوں میں زلزلے آ جاتے هیں لیکن مسلمانوں کے مکه و مدینه میں جمع هونے سے ان  پر کوئی اثر نهیں هوتا کیونکه حج کو آل سعود نے بے مقصد بنا دیا هے۔ اس سے آپ اندازه لگائیں۔

آج فرزند رسول اعظم  امام خمینی حج کو رسول اعظم  کے زمانے کے حج کی شکل میں لانے کی  کوشش کر رهے هیں۔ دوسری طرف آل سعود حج کو بے معنی اور بے مقصد بنا رهے هیں۔ یهی امریکی اسلام کی نشانی هے که امریکی اسلام میں نماز پڑھنے، حج کرنے کی اجازت هے۔ الله اکبر کهنے  کی اجازت هے لیکن سپر پاور امریکه اور روس کو مانو۔ قیام و رکوع کرو لیکن وائٹ هائوس اور کریملن کی عبادت کرو۔

هر نماز میں ایاک نعبدو و ایاک نستعین پڑھو لیکن هر وقت دست گدائی واشنگٹن یا ماسکو کی طرف  پھیلا هوا هو۔ حج میں کنکریوں کے ساتھ شیطان کو مارو لیکن امریکه روس اور اسرائیل کے خلاف نعره  نه لگائو۔ یه هے امریکی اسلام۔

اگر هم چاهتے هیں که اسلام محمدی اسلامی ممالک میں قائم هو جائے تو همیں اسلام امریکی کو  راستے سے هٹانا هو گا۔ اس وقت اسلامی ممالک میں امریکی اسلام کو لانے والے یه حکمران هیں اور یهی حکمران چاهتے  هیں که ان اسلامی ممالک میں امریکی اسلام هو۔ امریکی اسلام میں درباری ملائوں کو زکوٰة سے بھی پیسه ملے گا اور مراعات بھی ملیں گے۔ آیا بادشاهت کا نظام اسلام میں هے؟ همارے حکمران یهی  امریکی اسلام هم پر مسلط کرنا چاهتے هیں۔ اس اسلام میں امریکه کی بالادستی هو گی جس  اسلام کی ضیائ الحق بات کرتا هے اس میں امریکه کی بالادستی هو گی اور نام صرف اسلام کا هوگا۔

هماری بدبختی ان ناهل حکمرانوں کی وجه سے هے لیکن آپ دیکھیں که فلسطین کے مسئلے کے  حوالے سے، ایران عراق جنگ کے حوالے سے، اگر همارے ان حکمرانوں میں مسلمانوں کے لئے درد  هوتا تو یه کبھی بھی اپنے اجتماعات میں اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کے خلاف فیصلے نه کرتے۔  اردن میں جو کانفرنس هوئی کیا اس میں اسرائیل کے خلاف فیصله کیا ؟ نهیں بلکه فیصله کسی اور  کے خلاف هوا۔ اسرائیل کا نام تک نهیں لیا گیا۔ مسلمان ممالک کے وزرائے خارجه کی جو میٹنگ هوئی  تھی اس میں اسرائیل کے خلاف کوئی اقدام نهیں هوا۔ فیصله هوا که حاجیوں پر پابندی لگائی جائے۔  حاجیوں کی تعداد کو کم کیا جائے اسلام نے قرآن میں حج واجب نهیں کیا؟

ولله علی الناس حج البیت من الستطاع الیه سبیلا  -  آل عمران۔97

تو پھر یه کیسے حاجیوں کے کوٹے میں کمی کا فیصله کرتے هیں؟ اسرائیلی گولیاں برسا کر همارے  نوجوانوں کو شهید کرتے هیں۔ ناموس کی بے عزتی کرتے هیں۔ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرتے  هیں۔ عرب حکمران اسرائیلیوں کے خلاف قرارداد پاس نهیں کرتے بلکه جمهوری اسلامی ایران ) جو  صحیح معنوں میں امریکه و اسرائیل کا دشمن هے( کے خلاف قرارداد پاس کرتے هیں اور ان مسائل کی وجه سے آج حالات اس قدر بگڑ گئے هیں که ایران اسلامی کے وه عظیم رهبر جو کفر کے ساتھ ایک  منٹ کے لئے بھی بات کرنے کے لئے تیار نهیں تھے اور خون کے آخری قطرے تک یا عراق کی مکمل  آزادی تک جنگ کا تهیه کر چکے تھے۔ ان نااهل حکمرانوں کی وجه سے ان عرب حکمرانوں کے ضد  اسلام رویه کی وجه سے، اور استکباری و طاغوتی طاقتوں کی سازشوں کے نتیجے میں بقول امام  خمینی که اس چیز کو میں نے قبول کیا هے جو میرے لئے زهر کے پیالے کے پینے سے کم نهیں هے۔ (یعنی عراق سے جنگ بندی کرنا)

 




آپ یہاں ہیں: مقالات برائت از مشرکین ۔ کراچى میں خطاب