برائت از مشرکین ۔ کراچى میں خطاب

ایمیل Print

 

argaiv1069


جس طرح حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه و آله و سلم کو حالات و شرائط کی وجه سے اس  معاهدے کو قبول کرنا پڑا جس کی وجه سے رسول اکرم کو صلح حدیبیه پر دستخط کرنا پڑے ۔ اس طرح آج نااهل حکمرانوں کی وجه سے، اگر ان میں جرات هوتی اگر ان میں انصاف هوتا، اگر یه اسلام اور  مسلمانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے تو یه حالات پیدا نه هوتے۔ کون نهیں جانتا که جارح عراق هے۔  کون نهیں جانتا که عراق نے کیمیاوی هتھیاروں سے جنگ شروع کی۔ کس کو پته نهیں که سمندر میں خلیج فارس میں، جنگ عراق نے شروع کی؟ کس کو پته نهیں هے که ساری برائیوں کی جڑ صدام هے؟ سب کو پته هے، سب جانتے هیں، زنده ضمیر، بیدار اهل دل، اهل عقل سب جانتے هیں۔ جنگ کا  فیصله سلامتی کونسل، یو این او، اسلامی تنظیم، غیرجانبدار تحریک کے بس کی بات نهیں۔ آپ نے  دیکھ لیا که امریکه خیانت کار نے ایران کا مسافر بردار طیاره گرا کر بے گناه بچوں، خواتین اور مردوں کا  قتل عام کیا اور اس قدر بڑا جرم کیا که خود یورپی ممالک کے لوگ امریکه کی مذمت کئے بغیر نه ره  سکے لیکن سلامتی کونسل نے کیا قرارداد پاس کی؟ آیا مذمت کی؟ نهیں۔ صرف یهی کها که هم  افسوس کرتے هیں جس ادارے کی حالت یه هو تو آپ بتائیں که یه کس طرح مظلوموں کو انصاف دلا  سکتے هیں۔

جس دنیا میں هم رهتے هیں اس میں لوگ صرف زور کی زبان سمجھتے هیں۔ دلیل و برهان کو نهیں  سمجھتے۔ جس طرح صلح حدیبیه میں صلح حسن مجتبیٰ   میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے مفید  اور مثبت نتائج ظاهر هوئے۔ همیں امید هے اور یقین هے که ان حالات و شرائط کے نتیجے میں جمهوری اسلامی پر مثبت اثرات هوں گے۔
برادران عزیز! اگر جونیجو کے ساتھیوں پر الزام یه تھا که انهوں نے رشوت لی هے۔ پلاٹ لئے هیں، بخدا  مجھے پته هے نام نهیں لوں گا۔ مارشل لائ کے دور میں جنرل اور کرنل حضرات کو نه صرف ایک شهر  میں بلکه لاهور میں، کراچی میں، اسلام آباد میں، ملتان میں، هر شهر میں متعدد پلاٹ الاٹ کئے گئے۔  اگر یه پلاٹ اسمبلیوں کے نمائندوں کے لئے رشوت تھی، ناجائز تھے تو پھر ان کرنل حضرات کے لئے  کیسے جائز هو گئے؟

 
همیں یه منطق سمجھ میں نهیں آتی اگر جونیجو کی حکومت کو انهوں نے صرف اس حوالے سے  برخاست کر دیا که ملک میں امن نهیں هے۔ خود اس کے زمانے میں کس قدر فسادات هوئے۔ فرقه  واریت کے حوالے سے هو یا لسانیت و قومیت کے حوالے سے اور جب سے انهوں نے وه حکومت ختم کرکے دوباره نئی حکومت قائم کی هے تو آپ مجھے بتائیں که آیا سندھ اور دوسری جگهوں پر امن و  امان هے۔ هم تنبیه کرتے هیں که اگر مسلمان بیدار نه هوئے تو یه فسادات کو انتخابات کے ملتوی  کرنے کا بهانه بنائیں گے۔ هم سنی، شیعه مذهبی اور سیاسی افراد اور تنظیموں سے گزارش کرتے  هیں که محرم و صفر میں هوشیار اور بیدار هو کر ان فسادیوں کو موقع نه دیں که وه فساد کرا کر  انتخابات کو ملتوی کرنے کا بهانه بنائیں۔ وه کهتے هیں که هم نے اس وجه سے جماعتی انتخابات نهیں کروائے کیونکه پارٹیوں کو کون سمجھتا اور جانتا هے؟ یه بات هم سمجھتے هیں لیکن تفصیلاً گفتگو  نهیں کرنا چاهتا صرف اتناعرض کرتا هوں که مسئله یه نهیں هے بلکه مسئله یه هے که آزاد افراد کو  خریدنا آسان هے لیکن اگر پارٹی کی بنیاد پر لوگ آئیں گے تو تمهارے لئے انهیں خریدنا مشکل هے۔ اس لئے آپ غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرا رهے هو۔ جو غیر جماعتی بنیادوں پر آئے گا ان کے پیچھے  کوئی نهیں هو گا، لالچ کے ذریعے دھمکیوں کے ذریعے ان کو اپنے لئے استعمال کر سکتے هو۔

برادران عزیز!  همیں هوشیار و بیدار رهنا چاهئے۔ یه کبھی اسلام کے حوالے سے باتیں کرتے هیں۔  کبھی جمهوریت کے حوالے سے یه سب دھوکه هے فریب هے۔ هم خوب سمجھتے هیں همارے اس  قسم کے اجتماعات کا مقصد اسلام دشمنوں سے خواه وه کفر کے لباس میں هوں یا نفاق کے لباس  میں ان سب سے اظهار تنفر کرنا هے۔
برادران عزیز!  آج اگر هم حرکت نهیں کریں گے۔ آل سعود کے مسئله کو جدیت کے ساتھ نهیں اٹھائیں  گے تو پته نهیں آل سعود حج کو کونسی شکل دے دیں۔ آج انهوں نے صرف فلسطینیوں، لبنانیوں،  ایرانیوں کو حج سے منع کیا هے اگر هم نے سستی کی اور اس مسئلے کو سنجیدگی سے نه لیا هم نے صدائے احتجاج بلند نه کی تو هو سکتا هے که آئنده سال هم پر بھی پابندی لگا کر همیں حج کے  عظیم فوائد و برکات سے محروم کریں۔ آل سعود کا کوئی اعتبار نهیں هے۔ اسلئے که ان کی اپنی کوئی پالیسی نهیں هے۔ وه امریکه کی پالیسی پر عمل کرتے هیں۔

برادران عزیز!  همیں اس بات پر دکھ هے که اگر کسی جگه پر ایک دو آدمی مر جاتے هیں تو دنیا والے  شور مچاتے هیں، اخبارات میں رسالوں میں، ان کے چرچے هوتے هیں۔ حرم خدا میں، مسجد الحرام  میں نهتے بے گناه حاجی، معصوم عورتیں، معصوم بچے اور معذور افراد سینکڑوں کی تعداد میں قتل  هوتے هیں اور دنیا پر اس کا اثر نهیں هوتا اور سب سے بڑھ کر حرم خدا کی حرمت پامال کی جاتی هے لیکن انهیں کچھ نهیں کها جاتا۔

برادران عزیز!  ان مسائل کی طرف هم کو توجه کرنی چاهئے اگر همیں حج سے صحیح فائده اٹھانا هے تو پھر مکه، مدینه حرمین شریفین ایسے افراد کے هاتھوں میں هونے چاهئیں جو مسلمانوں کے صحیح  نمائندے هوں جو امریکه کے نمائنده نه هوں، جو متقی و پرهیز گار هوں۔ آل سعود جن کے گھرو ں میں فساد هے فحشائ هے۔ امریکه میں ان کے محلوں کو دیکھیں ان کے شهزادوں کو دیکھیں که حتی  مغربی امرائ و روسائ اس قسم کی برائیاں نهیں کرتے جو آل سعود کے یه شهزادے کرتے هیں۔  مسلمان کس طرح راضی هیں که یه نجس و فاسق لوگ خادم حرمین شریفین کهلاتے هیں۔

اے مسلمانان عزیز!  اے عاشقان خانه خدا، اے فرزندان ابراهیم جا کر اپنے آنسوئوں کے ذریعے کعبه کے مبارک غلاف کو (جسے ان منافقین نے نجس کیا هے) دھو ڈالو۔
برادران عزیز! حج کے فلسفے سے خود بھی آگاه هوں اور دوسروں کو بھی آگاه کریں۔ انهیں سمجھائیں که حج ایک وسیع مفهوم رکھتا هے۔ حج کے مختلف پهلو هیں اگر هم نے حج کامل انجام دینا هے تو  تمام پهلوئوں کی طرف توجه دیناهو گی۔

میں اس سے زیاده حائل و مزاحم نهیں هوتا۔ آپ برادران عزیز اور منتظمین جلسه کا تهه دل سے شکریه ادا کرتا هوں اور استدعا کرتا هوں که شهداء کے لئے سوره فاتحه تلاوت فرمائیں۔


آپ یہاں ہیں: مقالات برائت از مشرکین ۔ کراچى میں خطاب