برائت از مشرکین ۔ کراچى میں خطاب

ایمیل Print

کل 6 ذی الحجه کا دن تھا۔ کل پورے عالم اسلام میں حامیان انقلاب اسلامی اور دشمنان مشرکین نے  اس دن کو بڑے جوش کے ساتھ منایا هو گا جس طرح که آپ پیروان امام خمینی نے بھی اسے شاندار  طریقے سے منایا۔ سوال یه پیدا هوتا هے که یه دن کیوں منایا جاتا هے؟ آپ کو یاد هوگا که سال گزشته اسی دن خانه خدا کے تقدس کو پامال کیا گیا امن حرم الٰهی کو ختم کیا گیا۔ مهمانان خدا کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ حرم خدا میں مرده باد امریکه، مرده باد روس اور مرده باد اسرائیل کا نعره لگانے والوں پر گولیوں کی بوچھاڑ سے حمله کیا گیا۔ دیکھنا یه هے که آخر ان بے گناه زائرین خدا کا قصور کیا تھا؟

argaiv1679

ان کا قصور صرف یه تھا که وه قرآن مجید کی اس آیت شریفه پر عمل کر رهے تھے که

" و اذان من الله و رسوله الی الناس یوم الحج الاکبر ان الله بری من المشرکین و رسوله" (توبه۔3)

مرده باد امریکه، مرده باد روس اور مرده باد اسرائیل کے نعرے لگا رهے تھے۔ وه الله اکبر کے نعرے لگا  رهے تھے، حج کے عبادی پهلو کے ساتھ ساتھ حج کے سیاسی اور اجتماعی پهلو کو بھی زنده کرنا  چاهتے تھے وه مسلمانوں کے اس عظیم اجتماع سے حج اکبر سے فائده اٹھانا چاهتے تھے۔ مسلمانوں کو اپنے دردوں سے آگاه کرنا چاهتے تھے۔مسلمانوں کو اپنے مسائل کی طرف متوجه کرنا چاهتے تھے۔ اس کے علاوه ان کا کوئی قصور نهیں تھا۔


سوال یه پیدا هوتا هے که برائت از مشرکین جس پر مظلوم حجاج عمل کر رهے تھے یه برائت کیا هے٬ جواب واضح هے برائت یعنی اظهار نفرت۔ خداوند متعال نے حج کے موقع پر مشرکین سے اظهار برائت  کرنا مسلمانوں پر واجب قرار دیا هے۔ کیا قرآن کی آیت نص هے یا نهیں، کیا اس آیت سے مراد صرف  رسول اعظم صلی الله علیه و آله و سلم کے زمانے کے مشرکین هیں یا آج کی دنیا کے مشرکین بھی  اس میں شامل هیں؟ جب مشرکین آج بھی موجود هیں اور آیت بھی منسوخ نهیں هوئی تو پھر کیا  مسلمانوں کو عبادت و مناسک بجا لانے کے ساتھ ساتھ مشرکین سے برائت کا اظهار نهیں کرنا چاهئے؟ اگر قرآن کی آیت بھی جاری و ساری هے، جهاں رمی واجب هے، جهاں دوسرے مناسک واجب هیں تو اس کے ساتھ مشرکین سے اظهار برائت کرنا حاجیوں پر موسم حج میں واجب هے۔ برادران عزیز!  ان  مولوی حضرات سے هم سوال کرتے هیں، همیں امریکه اور سعودیوں سے سوال نهیں کرنا وه حضرات  جو کهتے هیں که موسم حج میں نعرے لگانا بدعت هے، جلوس نکالنا بدعت هے تو پھر آئیں اس آیه  شریفه کی تفسیر کریں۔ اگر هم اس آیه شریفه پر عمل کرنا چاهتے هیں اگر هم مشرکین سے اظهار  نفرت کرنا چاهتے هیں تو همیں بتائیں که هم کس طریقے سے اظهار تنفر کریں؟

اسلام میں دو قسم کے احکام هیں کچھ کا طریقه بتا دیا گیا هے مثلاً آپ نماز کو لے لیں یعنی نماز کو کس طرح انجام دیا جائے۔ شریعت نے اس کا طریقه بتا دیا هے که نیت، قیام، رکوع، سجود، تشهد اور آخر میں سلام سے نماز کو ختم کیا جاتا هے۔ اب هم اس سے هٹ کر نماز انجام دیں گے تو نماز باطل هو گی۔ مثلاً خاتون کے لئے لازمی هے که وه نماز کے دوران اپنے چهرے کے علاوه تمام جسم کو ڈھانپے اب یه نهیں بتایا گیا که  حجاب کیا هو۔ شلوار قمیض هو یا کوئی اور چیز سے هو۔ اسلام نے یه لوگوں پر چھوڑ دیا هے۔ اسی طرح کھانا پینا بھی هے۔

یه برائت ان امور میں سے هے جسے اسلام نے لوگوں پر چھوڑ دیا هے۔ اب هم اس زمانے کو دیکھیں  گے که جس میں هم ره رهے هیں اگر کوئی کسی حکومت سے اظهار برائت کرنا چاهے تو اس کا کیا طریقه هے٬ رائج الوقت طریقه یه هے که جلسے جلوس نکالے جاتے هیں۔ مظاهرے کئے جاتے هیں۔ نعرے لگائے جاتے هیں۔ کیا یهی طریقه رائج نهیں هے؟ اسلام نے برائت کو مسلمانوں پر چھوڑ دیا هے۔ تو آج اگر هم موسم حج میں مشرکین جو اس وقت امریکه، روس اور اسرائیل هیں، سے اظهار تنفر کرنا چاهتے هیں کیونکه قرآن کی آیه برائت هم سے یه تقاضا کرتی هے تو پھر همیں مکه مکرمه میں  سیمینار کرنے پڑیں گے۔ مکه مکرمه میں جلوس نکالنے هوں گے۔ وه جلوس پر امن طور پر، پروقار کے  ساتھ، بڑے اچھے انداز میں هوں گے۔ لوگ بغیر کسی تشدد کے بغیر کسی مسلمان کی دل آزاری کے صرف اور صرف اپنے اتحاد و وحدت کا مظاهره کرتے هوئے کفر و شرک ،عالمی استکبار سے اظهار تنفر  کرتے هوئے ٬٬ الله اکبر٬٬  ٬٬ یا ایھا المسلمون ٬٬۔ ٬٬لاشرقیه و لا غربیه اسلامیه اسلامیه٬٬الموت لامریکه ٬الموت لروسیا٬٬ کے نعرے لگائیں۔ اگر اس انداز میں برائت از مشرکین کی جاتی هے تو پھر یه علمائ،  یه مفتی یه درباری ملاں جو یه کهتے هیں ، یه صرف ان کا دعویٰ هے۔ یه صرف امریکه کی خوشنودی  هے۔ صرف آل سعود کا تقرب اور رضایت حاصل کرنے کیلئے هے۔ ورنه اگر آپ تاریخ کا مطالعه کریں، قرآن  مجید کے مطابق رسول اعظم جو بانی اسلام هیں وه کس طرح حج انجام دیتے تھے۔ آیا رسول اعظم  حج کے موسم میں نظام اسلامی کا پرچار نهیں کرتے تھے۔ حج کے موسم میں مستکبرین اور  مشرکین سے لوگوں کو بیزار نهیں کرتے تھے۔ یهاں تک که تاریخ میں لکھا هے که رسول اعظم   منی  جهاں حاجیوں کے خیمے لگے هوتے تھے حاجیوں کے خیموں میں جا کر ان سے نظام اسلامی کے  حوالے سے احکام اسلامی کے حوالے سے بات کرتے تھے۔ جب رسول اعظم   تبلیغ کے لئے خیمه به خیمه جاتے تھے اور ان کے پیچھے پیچھے مشرکین هوتے تھے جو رسول اعظم   کی باتوں کی تردید کرتے تھے اور کهتے تھے )نعوذ بالله( یه جھوٹا هے یه تمهیں دھوکه دے گا یه تمهیں ورغلا رها هے لهٰذا تم اس کی باتوں میں نه آنا۔

 




آپ یہاں ہیں: مقالات برائت از مشرکین ۔ کراچى میں خطاب