خاندان کا ایک تعارف

ایمیل Print
وطن عزیز پاکستان کے چاروں صوبوں کی اپنی اپنی روایات ہیں۔ یہ جداگانہ مزاج اور رواج ان کی پہچان ہیں۔ صوبہ سرحد کی تاریخ کے حوالے سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لبادے میں انگریز پورے ہندوستان پر قابض ہو گئے تھے مگر اپنی تمام تر مکاری، چالاکی اور طاقت کے باوجود بھی سرحدی علاقوں پر قبضہ نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ انہیں علاقہ غیر، ممنوعہ علاقہ اور ایجنسیوں کے کتبے لگانا پڑے۔ یہاں کے لوگ جنگجو ہیں اور مختلف قبائل میں تقسیم ہیں۔ صوبائی تقاضوں سے ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ قبائل کے اپنے رسم و رواج اور رہن سہن کے انداز ہیں۔ یہاں بیشتر مقامات کے نام بھی قبائل سے منسوب ہیں جنہیں صوبے میں منفرد مقام حاصل ہے۔
صوبہ سرحد کے لوگ اسلحہ افتخار سے لے کر چلتے ہیں اور ہر شخص گھر میں اسلحہ رکھنا لازم سمجھتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کی دوستیاں بے مثال ہوتی ہیں اور دشمنیاں خوفناک۔ یہاں دشمنیاں نسل در نسل چلتی ہیں اور خون کا بدلہ نسل در نسل لیا جاتا ہے۔ پاکستان کا دور افتادہ اور پسماندہ صوبہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری کا تناسب بھی نمایاں ہے۔یہاں کے لوگ غربت کی وجہ سے اسمگلنگ، اغوا، ڈکیتیاں اور اجرت پر قتل کرتے ہیں۔ غربت اور اسلحہ کی بہتات کے باعث یہاں جرائم پیشہ لوگوں کی بھی کثرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کے جرائم پیشہ اور مفرور لوگ یہاں آکر پناہ لیتے ہیں۔
یہاں کے لوگوں کی زبان پشتو ہے اور یہاں کے باسی ''پختون'' کہلاتے ہیں۔ خواتین کے حجاب اور مردوں کی جفا کشی پاکستان بھر میں معروف ہے۔ یہاں کے قبائل عدالتوں کی بجائے اپنے مسائل ''جرگہ'' میں حل کرتے ہیں۔ جرگہ قبائل کے معززین کی کمیٹی ہوتی ہے۔ ہر غیر سید پختون کے نام کے ساتھ خان کا لفظ ضرور لگتا ہے جبکہ قبائل کے بڑے لوگوں اور جرگہ میں شامل معززین کو ''ملک'' کہا جاتا ہے۔
صوبہ سرحد کے دار الخلافہ پشاور سے تقریبا ٢٠٠ کلومیٹر اور سطح سمندر سے تقریبا ٥٠٠٠ فٹ بلندی پر شمال مغربی کرم ایجنسی کا ہیڈ کوارٹر پاراچنار واقع ہے۔ جو افغانستان کی سرحد اور شیعہ آبادی کے ناطے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔
پشاور سے پاراچنار کی طرف روانہ ہوں تو سبز درختوں میں گھرے اور پہاڑوں کے دامن میں لپٹے ہوئے اہم گاوں درہ آدم خیل، نصرت خیل، محمد زئی، چکر کوٹ، استرزئی، خادزئی، جوزراہ، رائیسان، ابراہیم زئی، ہنگو، کاہی، دوآبہ، در سمند، ٹل ،ٹوپکی،بلچ خےل، سمیر، صدہ، اور شبلان اپنی قدرتی خوبصورتی کی بدولت دلکش اور جاذب نطر ہیں۔ لہلہاتے کھیت، پہاڑوں کی سر سبز چوٹیاں، درختوں، کی سرسراہٹ، ٹھنڈے اور میٹھے چشموں کی سر ےلی گنگناہٹ طبیعت میں وجد اور سرور پیدا کر دیتی ہے۔
کرم ایجنسی کا ہیڈ کوارٹر پارا چنار دو لفظوں کا مجموعہ ہے ''پارا'' اور ''چنار''۔ اس کا پہلا نام ''طوملکے'' تھا۔ طوملکے پشتو زبان میں شہتوت کے درخت کو کہتے ہیں۔ چونکہ یہاں شہتوت کثرت سے تھے اس لئے اس کا نام طوملکے مشہور ہوا۔ مگر کچھ عرصہ بعد جب پارا نامی قبیلہ یہاں آباد ہوا تو اس قبیلے کے فیصلے چنار کے درخت کے نیچے ہونے لگے۔ یوں چنار کے درخت کے نیچے پارا قبیلہ کی عدالت اس قدر مشہور ہوئی کہ اس کا نام''پاراچنار'' پڑ گیا۔ اگرچہ آج پارا نامی قبیلہ تو نہیں رہا مگر چنار کے اونچے اور بڑے درخت یہاں کی پہچان اور حسن ہیں۔ چنار کے سر سبز درختوں کے درمیان چھپا ہوا یہ شہر آج بھی اپنے لا زوال حسن کا احساس دلاتا ہے۔
بنگش اور طوری یہاں دو اہم قبائل ہیں۔ انگریز یہاں ١٨٩٢ء میں آئے تو ان کا پہلا ''جرگہ'' طوری قبیلہ کے ساتھ ہوا پھر بنگش اور طوری قبیلہ میں جنگ چھڑی تو طوری غالب آئے جنہیں آج بھی پارا چنار میں فوقیت حاصل ہے۔
پاراچنار کا موسم انتہائی سرد ہے یہاں چھ ماہ شدید سردی پڑتی ہے اور پہاڑوں پر سارا سال برف کی تہہ جمی رہتی ہے جو گرمیوں میں پگھل کر ٹھنڈے نالوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پتھروں سے سر گوشیاں کرتے ہوئے نالوں کا یہ ٹھنڈا پانی ایسی آوازیں پیدا کرتا ہے۔ جیسے پہاڑوں کی اوٹ میں بیٹھا ہوا کوئی شخص وجد کی حالت میں خدا کی قدرت کے گن گا رہا ہے۔
پاراچنار کے شمال مغرب میںکوہ سفید واقع ہے جس کی چوٹیاں سال بھر برف سے ڈھکی رہتی ہیں۔ کوہ سفید کے پہلو میں چھپے ہوئے اس شہر کو دور سے دیکھیں تو ایسے لگتا ہے جیسے اس شہر نے اپنے چہرے پر برف کا غازہ سجایا ہوا ہے اور اپنے جسم پر درختوں کی سبز چادر اوڑھ رکھی ہے۔
پارا چنار کے اطراف میں درجنوں بزرگ سادات کے مزار واقع ہیں۔ کیونکہ یہاں کے لوگ بزرگان کی کشف و کرامات کے مداح اور انکی ذات سے خصوصی عقیدت رکھتے ہیں۔ اس لئے ان کے مریدوں کی آمد رفت کا سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے۔ چونکہ یہ لوگ مزاجا ً غیور اور جنگجو ہیں اس لئے انہیں حضرت عباس علمدارؑ سے خصوصی عشق ہے۔
پارا چنار میں نوجوانوں کے لئے دو دینی مدرسے ہیں۔ ''مدرسہ جعفریہ'' علامہ شیخ علی مدد اور مدرسہ''آیت اللہ خامنہ ای'' علامہ عابد حسین الحسینی کی زیر نگرانی چل رہا ہے۔ جبکہ خواتین کے لئے ایک علیحدہ مدرسۃ الزہراؑ موجود ہے۔ جس کی نگرانی بھی علامہ سید عابد حسین الحسینی صاحب کر رہے ہیں۔
پارا چنار کا سیاسی نظام انگریزوں کا رائج کردہ ہے۔ یہاں عدالت نام کی کوئی چیز نہیں۔ تمام مسائل جرگہ کے تحت حل ہوتے ہیں اور پولیٹیکل ایجنٹ یہاں کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے۔
پاراچنار کے مشرق میں کڑمان، بادامہ اور باغاکی، شمال مشرق میں زڑان، جنوب مغرب میں خرلاچی شنکگ اور بوڑکی، جنوب مشرق میں صدہ، عالم شیر، اور سراگلہ جنوب میںکنج علی زئی حشمت زئی، احمد زئی، اور مالی کلے، شمال میں ملانہ اور شمال مغرب میںشلوزان، بورکی،تری مینگل اور پیواڑ واقع ہیں۔
پیواڑ وہ گاؤں ہے جس میں ایک غیر معمولی شخصیت سید عارف حسین الحسینی نے ٢٥ نومبر ١٩٤٦ء کو. آنکھ کھولی تھی۔ اس کی گلیوں میں آپ کے بچپن کی صدائیں باقی ہیں۔ اس کے درختوں کے سائے، پہاڑوں کی چوٹیاں، ٹھنڈے اورمیٹھے ندی نالوں کے کنارے ''سید عارف حسین'' کے بچپن کی یادوں کے امین ہیں۔ ایک طرف پہاڑوں کی چوٹیوں کے پتھر کے نیچے آپ کے قدموں کے نشان محفوظ ہیں جبکہ دوسری جانب آپ اپنے گھر کے سامنے پتھریلی زمین کی گود مےں ُپر سکون سوئے ہوئے ہیں۔
اس گاؤں کی مائیں اپنے بچوں کو سید عارف حسین الحسینی کی کہانیاں سناتی ہیں اور بعض اوقات جب بچے پوچھ بیٹھتے ہیں کہ انہیں کس جرم میں قتل کیا گیا۔ تو مائیں جواب دینے سے قبل گھنٹوں روتی رہتی ہیں۔اس عبدذی وقار سے بچھڑ جانے کے غم میں درختوں کے سائے پہاڑوں کی چوٹیاں اور چشموں کے کنارے اپنے اپنے انداز میں غم زدہ ہیں۔ لمحہ بہ لمحہ فضائیں طواف کرتی ہیں ،گاؤں کے پیر وجواں ان کی ہجر میں اشک بار رہتے ہیں ۔ گاؤں کے چھوٹے چھوٹے بچے اورزن و مرد اُن کے مرقد کوچومتے رہتے ہیں سید عارف الحسینی کے تینوں معصوم بچے جب پشاور سے پیواڑ جاتے ہیں تو اکثر وقت اپنے مظلوم باپ کی مرقد کے پہلو میں بیٹھے رہتے ہیں۔ آپ کی ضعیف غمزدہ والدہ( ١٨ دسمبر ١٩٩٦ء میں انتقال فرماگئےں) گھر کے آنگن میں سارا دن سوچ میں گم ،مصلیٰ عبادت پر روتی رہتی ہیں۔ جب شام کا اندھیرا چھا جاتا ہے تو ضعیف سید زادی اپنی چار دیواری سے نکل کر اپنے دل کے چین عارف حسین کے پاس آجاتی ہیں۔ گھنٹوں سرہانے بیٹھنے کے بعد اپنی زبان میں فرماتی ہیں۔
''عارف ذڑہ خومہ دہ غواڑی چہ تامخ او شنڈے۔ خف (بوسہ) کم خوف تا مخ باندے خاور وپروت چادر زہ ضعیفہ نہ شم او چتولی''۔
''عارف ۔ جی تو چاہتا ہے کہ تمہارے لب و رخسار کو بوسے دوں مگر مجھ ضعفیہ سے تمہارے چہرے پر پڑی ہوئی چادر اٹھائی نہیں جاتی''۔
ہر صبح بیٹے کے وقتِ شہادت ضعےفہ ماں بیٹے کے سرہانے بیٹھ کر فطرت پر غالب ہو کر خدا کا شکر بجا لاتی ہیں اور بیٹے کو خراج تحسین پیش کرتی ہیںکہ
''اے عارف تا خودہ خپل پلار قربانپور زندہ
ستلے پارہ شہادت قبول کٹروازہ زہ پہ د ی فخر
کوم۔ حہ تادہ ماشو دو(دودھ) خیال و ساتلو''۔
''اے عارف تو نے شہادت کو سینہ سے لگا کر اپنے آباو اجداد اور آئمہ کی قربانیوں کے سلسلے کو زندہ رکھا ہے۔ مجھے آپ پر فخر ہے کہ آپ نے میرے دودھ کی لاج رکھ لی ہے''۔
پارا چنار سے دس کلومیڑ دور پیواڑ پاک افغان سرحد پر سطح سمندر سے چھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اس میں تین قبائل غنڈی خیل، علی زئی اور دویر زئی آباد ہیں ۔سید عارف حسین الحسینی کا تعلق دویر زئی قبیلہ سے تھا۔ مشہور صوفی بزرگ سید میر عاقل شاہ صاحب شاہ شرف بوعلی قلندر ابن سید فخر ولی (جو کڑمان گاوں میں دفن ہیں) کی دسویں پشت میں سے تھے۔ ان کا سلسلہ نصب حسین الاصغر ابن امام زین العابدین سے ملتا ہے۔ وہ سترھویں صدی کے اوائل میں تےرہ نامی علاقہ میں آباد ہوئے ۔ (تیرہ کوہاٹ کے نزدیک پہاڑوں میں گھرا ہواایک علاقہ ہے۔ جس میں آج کل قبیلہ بنگش آباد ہے) یہاں تشریف لا کر انہوں نے اسلام کی تبلیغ کا آغازان کی رحلت کے بعد ان کے بیٹے سید میاں داد شاہ صاحب نے باپ کی جگہ سنبھالی اور اپنے والد کے افکار کو وسعت دے کر تبلیغ اور درس و تدریس کا کام جاری رکھا۔ سید میاں داد شاہ صاحب کی رحلت کے بعد ان کے بیٹے سید میر انور شاہ صاحب (المعروف میاں بزرگوار) نے اپنے آباو اجداد کے مشن کو مزید آگے بڑھایااور اپنے علاقہ سے نکل کر تبلیغی مشن کو وسعت دی۔ یہ صاحب فیض و کمال صوفی بزرگ تھے۔ انہیں فیض و کمال مودت حضرت امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے ملا تھا۔ خداوند کریم نے انہیں خلوص و محبت کی دولت سے مالامال فرمایا تھا اور ان کے لہجے کی شیرینی میں جادو کا سااثر تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاںکے لوگ گروہ در گروہ مشرف بہ اسلام ہوئے۔
سید میر انور شاہ صاحب کے خاندان میں ایک درجن سے زائد خدا رسیدہ بزرگ پیدا ہوئے ۔ اسی خاندان نے علاقہ میں عزاداری سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی بنیاد رکھی اسے وسعت دی تو تھوڑے ہی عرصہ میں عزاداران امام حسین اور پرستاران اسلام کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ گلشن اسلام کی بہار اور عزادارن حسینی ؑکے پرُ درد نوحے وقت کے استعمار کی آنکھ میںکانٹا بن کر چھبنے لگے۔ دشمنان اسلام کی محفلوں میں سازشوں نے جنم لیااور یوں سید میر انور شاہ صاحب کے کلایہ (مسکن) کو تباہ کرنے کی سازش تیار کر لی گئی۔چنانچہ پے در پے حملے کر کے دشمنوں نے انہیں کبھی سکھ کا سانس نہ لینے دیا۔ یہ کشمکش جاری تھی ١٨٧٥ ء میں دو درجن سے زائد قبائل نے افغانیوں کی مدد سے کلایہ کو چاروں جانب سے گھیر ے میں لے کر زبردست حملہ کیا جس کے نتیجے میں کافی جانی و مالی نقصان ہوا لیکن دشمن کے تمام تر مظالم کے باوجود راہ حق میں ا س خاندان کے پایہ استقلال میں لغزش نہ آئی اورنہ ہی مصائب و آلام حائل ہو کر منزلوں سے اُن کا رُخ موڑ سکے۔ کچھ عرصہ بعد سید میر انور شاہ صاحب نے دوبارہ کلایہ کو آباد کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔
دشمنوں نے آپ کے گھر پر حملے جاری رکھے۔ آخر کار ١٨٩٠ء میں ایک گھمسان کا رن پڑا گاؤں ''کلایہ'' کو تباہ و برباد کر دیا گیا لیکن میر انور شاہ صاحب اپنے معتقدین کے دائرہ میں محفوظ رہے۔
جنگ کی اسی کشمکش کے دوران سید میر انور شاہ صاحب کا انتقال ہو گیا اور آپ کی جگہ آپ کا فرزند قدوۃ السالکین زبدۃ العارفین میر مدد شاہ نے سنبھال لی۔ سید میر انور شاہ صاحب کے انتقال کے بعد کچھ عرصہ امن رہا۔ مگر ١٩٢٧ء میں ان چنگاریوں نے پھر شعلوں کی شکل اختیار کر لی اور ایک بار پھر دشمنوں نے سید میر انور شاہ صاحب کا کلایہ مسمار کر دیا اور گھروں کو آگ لگا دی۔
گو سید میر انور شاہ صاحب کا انتقال قضائے الٰہی سے ہوا تھا مگر متعصب اور جنونی دشمنوں نے چند سال بعد آپ کے جسد خاکی(جو کہ صحیح سلامت تھا) کو قبر سے نکال کر آپ کا سر تن سے جدا کر دیا۔ تین ماہ تک کٹے ہوئے سر کی ''تیرہ'' کے علاقہ میں تشہیر ہوتی رہی اور یوں سید میر انور شاہ وقت کے کوفہ میں سنت ابن عقیل ادا کرتے رہے۔
تین ماہ تک سر میں کوئی خرابی پیدا نہ ہوئی پھر آپ کے اہل خاندان نے سید میر انور شاہ صاحب کا سر حاصل کیا اور آپ کے نواسہ کی قبر میں دفن کر دیا۔
اسی مناسبت سے آپ کو شہید اول بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پشتو زبان کے معروف شاعر بھی تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں مستقبل کے بارے میں فرمایا تھا۔
انور شاہ پہ تیغ شہید دی کہ باور کڑے خوش خرم دئی کہ داخخ شی بے کفن
''سید انور شاہ تیغ سے شہید کئے جائیں گے۔ وہ خوش ہیں کہ اگر بے کفن دفن بھی ہو جائیں''۔
آپ نے ایک اور جگہ فرمایا۔
بفہ ذات چہ سایہ نلری کل بور دئے
میر انور سید دی ناست تر تیغ پورتے
''میر انور سید اس ذات کے سائے میں بیٹھے ہیں جس کا کوئی سایہ نہیں ہے یعنی کل نور ہے''۔
قدوۃ السالکین نے اپنے والد بزرگوار کی درخشاں روایات و تبلیغات کو زندہ رکھا اور انہوں نے سکونت ''تیرہ'' سے ''پیواڑ'' منتقل کر لی۔ اس کے باوجود تیراہ پر پے در پے حملہ ہوتے رہے۔١٩٢٧ء کو تیراہ پر ایک بار پھر اجتماعی حملہ ہوا تو میر مدد شاہ دوبار ہ تیراہ تشریف لے گئے ۔ دشمن یہ چاہتے تھے کہ تیرہ سے ان بزرگان کی قبروں کو کھود کر ویسا ہی سلوک کیا جائے جیسا کہ سید میر انور شاہ صاحب کے ساتھ کیا گیا مگر وقت کی نزاکت اور دشمن کی سازشوں کا جائزہ لیتے ہوئے سید مدد حسین شاہ صاحب کو نہ صرف تیراہ کی آبادی کا دفاع کرنا پڑا ۔ بلکہ اپنے آباو اجداد کی قبروں کی حفاظت بھی کرنا پڑی۔ ١٩٢٧ء میں ایک گھمسان کی جنگ میں اپنے بزرگان کی قبروں کی حفاظت کرتے ہوئے آپ بھی شہید ہوگئے اورآپ کے ساتھ سید شاہ ابوالحسن میاں اور سید ابن علی میاں بھی شہادت سے ہمکنار ہوئے۔سید مدد حسین شاہ صاحب کے بعد ان کے بیٹے سیدحسن شاہ اور اُن کے بعد اُن کے فرزند سید الاجل میر ابراہیم میاں (سید عارف حسین الحسینی کے سگے پردادا) نے تبلیغ کا کام جاری رکھا۔ آپ کے بعد آپ کے فرزند سید میر جعفر میاں نے بزرگان کے مشن کو مزید آگے بڑھایا مگر انہیں بھی دشمنان اسلام نے چین سے نہ بیٹھنے دیا اور ان پر پہ در پہ حملے کئے۔ آخر ١٩٦٢ ء میں ان کی شہادت ہوئی جس کے بعد آپ کے بیٹے سید فضل حسین شاہ صاحب نے آپ کے مشن کی ذمہ داری اپنے سر لی۔
سید فضل حسین شاہ صاحب کی شادی اپنے چچا سید میر گوہر حسین جان کی بیٹی سے ہوئی ۔ خدا نے انہیں دو فرزند اور دو بیٹیاں عطا فرمائیں۔ بڑے فرزند کا اسم مبارک سید عارف حسین الحسینی اور چھوٹے کا نام سید عاقل حسین الحسینی رکھا گیا۔ چونکہ آپ کا سلسلہ نسب حسین الاصغر ابن امام زین العابدین سے ملتا ہے اس لئے آپ کا خاندان ''الحسینی'' معروف ہے۔
سید فضل حسین شاہ صاحب ١٣ نومبر ١٩٨٣ء کو بروز جمعہ اس جہان فانی سے رخصت ہوئے تو ان کے فرزند جلیل علامہ سید عارف حسین الحینی نے اپنے آباؤا جداد کی تبلیغ کو زندہ رکھا۔ یہاں تک کہ ١٠ فروری ١٩٨٤ کو ملت پاکستان کی قیادت سنبھال کر تبلیغ اسلام کو مزید وسعت بخشی اور یوں دو صدیوں بعد اس خاندان کی محنت کا ثمر سید عارف حسین الحسینی کی صورت میں پوری دنیا میں اس قدر مہکا کہ پاکستان کی فضائیں شہداء کربلا کے خون کی خوشبو سے معطر ہو گئیں۔

آپ یہاں ہیں: صفحہ اول