زمانہ قم المقدسہ ایران

ایمیل Print
آپ ١٩٧٣ء میں پہلی بار نجف اشرف سے ساڑھے چھ سالہ قیام کے بعد پاکستان آئے۔ اسی سال آپ کی اپنے ہی خاندان میں مولانا سید امیر حسین جان لکھنوی کی بھتیجی اور سید یونس جان خطیب عالم شیر کی صاحبزادی سے شادی انجام پائی۔
خداوند کریم نے آپ کو پانچ فرزند اور دو دختر عطافرمائیں۔ جن کے نام یوں ہیں۔سیدمحمد، سید علی، سید حسن ،سیدحسین، سید سجاد، سیدہ فاطمہ، اور سیدہ زینب۔
شادی کے بعد ١٩٧٤ ء میں جب آپ نے نجف اشرف دوبارہ جانا چاہا تو آپ کے داخلہ پرپابندی عائد کر دی گئی کیونکہ عراقی حکومت آپ کی سرگرمیوں ، قائدانہ صلاحیتوں اور امام خمینی سے عقیدت سے آشنا ہوچکی تھی۔ علمی تشنگی اور امام خمینی کے ہجر نے آپ کو پاکستان میں چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ آپ ٨ ماہ بعد قم تشریف لے گئے جہاں آپ نے آیت اللہ شہید مرتضیٰ مطہری، آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، آیت اللہ وحید خراسانی، آیت اللہ تبریزی اور آیۃ اللہ حرم پناہی سے تاریخ ، اصول، فلسفہ، فقہ اور علم کلام کا درس لیا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ایران میں امام خمینی کی تحریک خوب پروان چڑھ رہی تھی۔ایران کے ملعون شاہ کی جانب سے علماء کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ زوروں پر تھا۔ مدارس دینیہ کاتقدس پامال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی تھی ، عوام اور طلباء کے مظاہرے شباب پر تھے۔ ایسے میں سید عارف حسین الحسینی بڑے بڑے مظاہروں میں خود شرکت کرتے، اپنے ساتھیوں کو شرکت کی ترغیب دیتے اور امام خمینی کے پیغامات کو دیگر احباب تک پہنچانے میں سرگرم عمل رہتے تھے۔
چونکہ اسلامی انقلاب کی تحریک کا اصل مرکز حوزہ علمیہ قم تھا اس لئے قائدین انقلاب کی سرگرمیوں کا محور ہونے کے ناطے یہ حوزہ شاہ کے غیض و غضب کا نشانہ بنتارہا۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای، حجۃ الاسلام واعظ طبسی، حجتہ الاسلام شہید ہاشمی نژاد اور دیگر اہم شخصیات امام خمینی کی تحریک کے روح رواں تھیں۔ امام خمینی سے عشق کی بدولت سید عار ف حسین الحسینی کو امام کے جانثاروں سے عقیدت ہو گئی۔ آپ حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خطبات میں جوش و جذبہ سے شرکت فرماتے اور انکے خطبات کے اقتباسات اپنے دیگر دوستوں تک پہنچاتے ۔ آپ حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جذبہ اور ان کی امام خمینی سے والہانہ محبت کو دیکھ کر اکثر فرمایا کرتے تھے کہ '' اگریہ عبد ذی وقار (آیت اللہ خامنہ ای)زندہ رہے تو اپنی صلاحیتوں کا دنیا سے لوہا منوائیں گے''۔
ایران کی بدنام زمانہ جاسوسی تنظیم '' ساواک'' انقلاب کے لئے سرگرداں افراد کے لمحہ بہ لمحہ جاسوسی کررہی تھی بالخصوص یہ تنظیم غیر ملکی طلباء جو ایرانیوں کے شانہ بشانہ محرک تھے پر کڑی نظر رکھے ہوئی تھی۔ چونکہ پاکستانی طلباء میں سید عارف حسین الحینی تحریک امام خمینی کے سرگرم رکن تھے۔ اس لئے ''ساواک'' نے آپ کوگرفتار کر کے وہاں ضلعی انتظامیہ کے سپرد کردیا۔ آپ سے چند روز تفتیش ہوتی رہی۔ آپ کو صعوبتوں کا خوف دلایا گیا، ایران بدر کرنے کی دھمکیاں دی گئیں مگر ان کی کوشش بھی آپ کو متزلزل نہ کر سکی۔ آخر کار انہوں نے آ پ سے ایک حلف نامہ پر دستخط کرانے کی کوشش کی جس پر تحریر تھا کہ آپ
١۔ قم کے قیام کے دوران کسی مظاہرے اور جلسے میںشرکت نہیںکریں گے۔
٢۔ کسی سطح پر ہونے والے جلسے پر تقریر نہیںکریں گے۔
٣۔ شاہ ایران کے خلاف کسی مقام پر نشر واشاعت نہیں کریں گے۔
٤۔ ایران میں انقلاب کی تحریک کے کسی رہنما سے ملاقات نہیں کریں گے۔
٥ ۔ حکومت ایران کے خلاف کسی بھی سرگرمی میں شریک نہیںہوںگے۔
جونہی آپ کی نظر ان شرائط پر پڑی تو نہ صرف آپ نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا بلکہ بڑی جرات سے جواب دیا'' میںاس قسم کی شرط کو قبول نہیںکرتا اور نہ ہی میں نے اپنے آباؤاجداد سے مشروط زندگی کا درس پڑھا ہے''۔
قم میں بھی انقلابی جلسوں کے علاوہ عزاداری کے جلوسوں میں شرکت کرنا آپ کا پسندیدہ فعل تھا۔ آپ ان جلوسوںمیںنوحہ خوانی اور سینہ زنی کرتے۔ نجف و قم میںمقامات مقدسہ کی زیارتیں اور عزاداری کے عظیم جلوسوںسے آپ اس قدرمتاثر تھے کہ زندگی بھر احباب کی محفل میںانکا تذکرہ فرماتے رہے۔ آپ کے نزدیک نجف و قم کے مزارات کی زیارت ، وہاںمانگی گئی دعائیں اور عزاداری کے پروگرامات میںشرکت زندگی کا عظیم سرمایہ تھے۔
حج بیت اللہ آپ کی تسکین کا ذریعہ تھاآپ ١٩٧٥ء میں پہلی بار قم سے حج کی عظیم سعادت حاصل کرنے کے لئے گئے۔ دوران حج آپ کا تقویٰ ، عبادت اور کم گوئی ایسے افعال تھے جو ہر اہل نظر کو متاثر کرگئے۔ اس موقع پر پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے علماء اور صاحب تقویٰ افراد آپ کے انداز حج سے بے حد متاثر ہوئے اور کافی افراد نے مناسک حج بھی آپ کے ساتھ ادا کئے ۔دعاؤں کے مجموعہ کی بہترین کتاب''مفاتیح الجنان'' ہر وقت آپ کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ آپ مختلف مقامات پر وہاں کی مناسبت سے دعائیں پڑھتے اور گریہ کرتے ۔ ایک مرتبہ آپ اس کتاب کے ساتھ حرم میں داخل ہوئے تو سعودیہ پولیس نے کتاب اندر لے جانے سے منع کیا۔ آپ نے دلائل دیئے مگر انہوں نے واضح کہا کہ اس کتاب میںچند جملے ایسے ہیں جن سے سعودیہ مسلک کو اختلاف ہے۔ غالباً یہ جملے حضرت فاطمہ الزہراء ؑ اور مزارات اہل بیت کی مظلومیت کے بارے میں تھے۔
آپ حج کے عرصہ میں بہت کم سوتے ، زیارات اور قرآن مجید کی بکثرت تلاوت فرماتے، رات کو اٹھ کر خانہ خدا اور روضہ رسول ؐ کا کثرت سے طواف کرتے اور مسجد نبوی و دیگر مساجد میں کثرت سے نمازیں اور نوافل ادا کرتے تھے ۔ یاد خدا میں آپ کی آنکھیںمسلسل اشکبار رہتی تھیں ۔ آپ اس دوران کھانا بھی انتہائی کم کھاتے تا کہ عبادت میں خلل نہ آسکے۔ آپ سعودیہ میں گوشت کھانے سے مکمل پرہیز کرتے ایسے میں آپ خشک میوہ جات، انڈوں اور خشک روٹی پر گزارہ کرتے ۔
ایک مرتبہ آپ منیٰ آرہے تھے کہ ایک مصری آپ کا ہمسفر ہو گیا اور اس نے شیعیت کے خلاف انتہائی غلیظ زبان استعمال کی۔ آپ نے نہایت حوصلہ سے عربی میں اسے مذہب شیعہ کا تعارف کرایا اور وہ بے حد متاثر ہوا۔ یہ شخص آپ کو منیٰ میں خیمہ تک چھوڑنے آیا اور یہ کہہ کر کہ '' وہ مزید تحقیق کےلئے حاضر ہو گا'' رخصت طلب کی۔
آپ دوسری بار ١٩٧٧ء میںقم سے حج پر تشریف لے گئے جہاں آپ کی ملاقات پاراچنار کے قریبی رفقاء آقا سید محمد جواد ہادی ، حاجی کما ل حسین، سید حسین سے ہوئی۔ آپ نے اس گروپ کی رہنمائی کی۔ احباب کے بقول آپ کے حج کا انداز بھی منفرد ہوتا تھا۔ آپ ساری ساری رات جاگتے، زیارات و قرآن مجید بکثرت پڑھتے۔ خصوصاً عرفات کے دن ، دعائے امام حسین  ایسے پڑھتے جیسے امام حسین  روبرو آپ کا خطبہ سن رہے ہوں۔ زیارت امام حسین  پر بے حد گریہ کرتے ، اعمال حج کے دوران دعاؤ ں میں اپنی شہادت کی دعا اس انداز سے مانگتے جیسے خداوند کریم نے پوچھ لیا ہو عارف کیا چاہتے ہو؟ آپ رات کو مجالس پڑھتے اور احباب کو بار بار نصیحت فرماتے کہ آپ لوگ خدا کے مہمان ہیںلہذا میزبان کی عظمت کو مدنظر رکھ کر اپنے اطوار میںمزید بہتری پیدا کریں۔ ایک دفعہ حاجی کمال حسین آپ کے اعمال کی دعائیں ریکارڈ کررہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ ''ریکارڈنگ وغیرہ چھوڑےں اس سے آپ کے اعمال میںخلل پڑے گا آپ اعمال کریںواجبات کو ترجیح دیں''
ایک رات جدہ میں آپ احباب کے ہمراہ دعائے کمیل پڑھ رہے تھے کہ چند مصری آگئے انہوں نے آپ سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہیں ؟ آپ نے بتایا کہ ''ہم پاکستانی ہیں '' انہوں نے تعجب سے پوچھا پاکستان میں شیعہ رہتے ہیں ؟ انکے اس استفسا ر پر آپ نے شیعیت کا بھر پور تعارف کروایا اور انہیںبتایا کہ پاکستان میں ٣ کروڑ شیعہ آباد ہیں جو پاکستان کی کل آبادی کا چوتھا حصہ ہیں۔
آپ عرصہ حج کے دوران زیادہ وقت عبادات میں صرف کرتے، معمولی سا آرام کرنے کےلئے معمولی سی چٹائی پر نیچے سو جاتے اور اپنی عبااوپر لے لیتے۔ یوں تو زیارات کے دوران آپ اشکبار ہی رہتے مگر شعب ابی طالب اور جنت البقےع میں اس قدر گریہ کرتے کہ آپ کی حالت غیر ہوجاتی اور ا س دوران زیارات اور دعاؤں کی کتا ب زمین پر رکھتے اور بے اختیار ماتم کرتے۔
آپ اکثر فرمایا کرتے تھے ''دستور زمانہ ہے کہ ہرملک اپنے تاریخی مقامات کو چن چن کر محفوظ کرتا ہے جبکہ سعودی فرمانرواؤں نے ایسے مقامات (مزارات اہل بیتؑ و اصحابؓ) کو مسمار کردیا ہے'' چونکہ آپ حقیقی عبد کریم اور رسول اکرمؐکے پروانے تھے اس لئے اپنے احباب کو مجالس اور دروس میں حقیقت توحید اورعظمت رسولؐ سے آشنا کرتے ۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی مجالس میںشعیہ سنی برادران کا ہجوم رہتا تھا۔ آپ حج کی ادائیگی کے بعد واپس قم چلے جاتے اور اپنی تعلیم میںمصروف ہوجاتے تھے۔
قم میں قیام کے دوران جہاں آپ امام خمینی کی تحریک کے سپاہی تھے وہاںآپ پاکستانی امور پر بھی گہری نظر رکھتے۔ جب بھی کوئی پاکستانی طالب علم قم آتا تو آپ اس سے پاکستان کے مکمل حالات اور بالخصوص ملت جعفریہ کی صورتحال کا ضرور استفسار کرتے ۔
آپ قم میںرہتے ہوئے بھی کرّم ایجنسی کے حالات کے بارے میں کافی مضطرب رہتے۔ ان ایام میں جن احباب سے بھی آپ کا سلسلہ خط کتابت تھا آپ انہیںہر خط میں کرّم ایجنسی کے حالات کے بارے میں پوچھتے اور مکمل تفصیلات طلب کرتے تھے۔ اگرملت جعفریہ پاکستان کسی سانحہ کا شکار ہوجاتی تو آپ مسلسل کئی روز تک رنجیدہ رہتے۔ کبھی پاکستان میںفرقہ واریت کی مسموم ہوا کا کوئی جھونکا چلتا تو آپ بے حد غمزدہ ہوجاتے اور مقامات مقدسہ پر مسلمانوں کے اتحاد اور پاکستان کے استحکام کی دعائیں مانگتے تھے۔
آپ امام خمینی کی تحریک کا رخ دیکھ کر اس خواہش کا اظہار فرمایا کرتے تھے کہ انشا اللہ پاکستان میں بھی کوئی خمینی اٹھے گا جو وہاں مسلمان عوام کی تقدیر بدل ڈالے گا۔

آپ یہاں ہیں: مقالات زمانہ قم المقدسہ ایران